نیویارک/عالمی منڈی: دنیا بھر کے مرکزی بینکوں نے سونے کی اندھا دھند خریداری کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اپنے ذخائر میں سونے کی مقدار کو 36 ہزار ٹن سے زائد کر لیا ہے، جو کہ 1960 کی دہائی کے مشہور بریٹن ووڈز (Bretton Woods) دور کی بلند ترین سطح کے لگ بھگ ہے۔ موجودہ عالمی مارکیٹ کی قیمتوں کے حساب سے سونے نے سرکاری ذخائر (Official Reserves) کے حصے کے طور پر امریکی ٹریژریز (US Treasuries) کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی (Geopolitical Tensions) اور امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے کی رجحان (Diversification) اس بڑی معاشی تبدیلی کی بنیادی وجوہات ہیں۔ 2022 کے بعد سے چین، پولینڈ، ترکیہ اور بھارت اس دوڑ میں سرفہرست خریداروں کے طور پر سامنے آئے ہیں جنہوں نے بڑی مقدار میں سونا خریدا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ممالک راتوں رات ڈالر کو یکسر نہیں چھوڑ رہے، تاہم اس غیر یقینی اور پرآشوب عالمی ماحول میں وہ اپنے معاشی ذخائر کو زیادہ مضبوط اور محفوظ بنا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے نمٹا جا سکے۔
ڈالر پر اعتمادختم :دنیا بھر کے مرکزی بنکوں کی اندھا دھند خریداری ، سب سے زیادہ سونا کن ملکوں نے خریدا؟

