جیکب آباد بیورو چیف
جیکب آباد 15 سالہ لڑکا راحب علی، غلام عباس میرالی کا بیٹا، جھولے سے گرنے کے بعد زخمی، سول ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں دم توڑ گیا۔ لواحقین نے الزام لگایا ہے کہ لڑکے کو زخمی حالت میں سول اسپتال لے جایا گیا تھا، لیکن وہ بروقت اور مناسب طبی امداد کی کمی کی وجہ سے ایمرجنسی میں دم توڑ گیا۔ رشتہ داروں کے مطابق لڑکا راحب علی جھولے سے گرنے کے بعد شدید زخمی ہو گیا تھا اور اسے فوری طور پر سول ہسپتال کی ایمرجنسی میں منتقل کر دیا گیا تھا، لیکن مبینہ طور پر کوئی سرجن ڈاکٹر، ضروری ادویات اور ایمبولینس کی سہولیات نہیں تھیں۔ رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ بروقت علاج اور ایمبولینس کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے لڑکے کی حالت بگڑ گئی اور وہ ایمرجنسی میں دم توڑ گیا۔ لواحقین نے مزید الزام لگایا کہ سہولیات کی کمی اور عملے کی مبینہ غفلت کی وجہ سے سول ہسپتال ان کے معصوم بچے کی جان نہیں بچا سکا۔ انہوں نے محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام سے فوری طور پر اس واقعے کا نوٹس لینے، سول ہسپتال کی ایمرجنسی میں ڈاکٹروں، ادویات اور ایمبولینسوں سمیت بنیادی سہولیات فراہم کرنے اور قانون کے مطابق ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ اگر زخمی لڑکے کو بروقت طبی امداد اور ہنگامی سہولیات فراہم کی جاتیں تو شاید اس کی جان بچ جاتی۔ واقعے کے بعد رشتہ داروں میں غم اور غصے کی لہر دوڑ گئی۔

