تل ابیب :گزشتہ تین سالوں میں تقریباً 2 لاکھ 68 ہزار اسرائیلی ملک چھوڑ کر نقل مکانی کر گئے، تل ابیب یونیورسٹی کی تشویشناک تحقیق سامنے آ گئی!
اسرائیلی میڈیا میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیقی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ تین سالوں کے دوران تقریباً 2 لاکھ 68 ہزار اسرائیلی اپنا وطن چھوڑ کر بیرونِ ملک منتقل ہو چکے ہیں۔ 2023 سے شروع ہونے والی طویل جنگ اور گھریلو سیاسی و معاشی غیر یقینی کی صورتحال کے باعث ملک سے ہجرت کی یہ لہر تاریخ کی سب سے بڑی اور تشویشناک لہر قرار دی جا رہی ہے۔
روزنامہ ‘یدیعوت احرونوت’ میں شائع ہونے والی تل ابیب یونیورسٹی کے محققین کی اس تحقیق کے مطابق، 2023 میں 86,509 اسرائیلیوں نے تین ماہ یا اس سے زائد عرصے کے لیے ملک چھوڑا، جبکہ 2024 میں یہ تعداد بڑھ کر 91,499 اور 2025 میں 90,922 ہو گئی۔ اس طرح 2023 سے 2025 کے درمیان سالانہ اوسطاً 90,000 افراد ملک چھوڑ کر گئے، جو کہ 2010 سے 2019 کے دوران (اوسطاً 60,000 سالانہ) کے مقابلے میں انتہائی زیادہ ہیں۔
ڈیلی صباح میں شائع ہونے والی اس تحقیق کی نگرانی کرنے والے تل ابیب یونیورسٹی کے پروفیسر اطائی آٹر (Itai Ater) نے ان اعداد و شمار کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اصل خطرہ توازن کے بگڑنے اور ہجرت کرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک چھوڑنے والوں میں ڈاکٹرز، پی ایچ ڈی ہولڈرز، انجینئرز، ماہرینِ تعلیم اور ہائی ٹیک سیکٹر کے اعلیٰ آمدنی والے ماہرین کی بڑی تعداد شامل ہے، جو اسرائیلی معیشت کے انسانی سرمائے کے لیے ایک بڑا دھکا ہے۔
یہ لہر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل اکتوبر 2023 سے غزہ میں جاری جنگ کے ساتھ ساتھ لبنان، شام، یمنی اور ایران کے محاذوں پر بھی عسکری کارروائیوں میں الجھا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں اندرونی سطح پر عدم تحفظ اور معاشی دباؤ میں شدید اضافہ ہو چکا ہے

