واشنگٹن ڈی سی :امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے خلاف 25 ریاستوں پر مشتمل ایک طاقتور اتحاد نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ امریکی عدالت برائے بین الاقوامی تجارت میں دائر کیے جانے والے اس مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے 60 تجارتی شراکت داروں کی اشیا پر نئے ٹیرف عائد کر کے اپنے قانونی اختیارات کا صریحاً غلط استعمال کیا ہے۔
سنہوا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اس قانونی چیلنج میں 10 فیصد اور 12.5 فیصد کے ان نئے ٹیرفز کو نشانہ بنایا گیا ہے جو متاثرہ ممالک سے آنے والی زیادہ تر درآمدات پر لاگو ہوتے ہیں (یہ ممالک مجموعی امریکی درآمدات کا 99.4 فیصد بنتے ہیں)۔ ریاستوں نے عدالت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ان محصولات کو فوری طور پر روکا جائے، انہیں غیر قانونی قرار دیا جائے اور پہلے سے وصول کی گئی ڈیوٹی کی رقوم واپس کی جائیں۔
ریاستوں کا مؤقف ہے کہ وفاقی حکام نے 1974 کے تجارتی ایکٹ کی دفعہ 301 (اور جبری مشقت کے خدشات) کو محض ایک ڈھال کے طور پر استعمال کیا ہے تاکہ اصل میں انھی عالمی ڈیوٹیز کو دوبارہ نافذ کیا جا سکے جنہیں رواں برس فروری میں سپریم کورٹ پہلے ہی مسترد کر چکی تھی۔
: نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچول نے اس اقدام کو محنتی خاندانوں پر بالواسطہ ٹیکس قرار دیا جس سے گروسری اور روزمرہ کی اشیا مہنگی ہو رہی ہیں۔ اوریگون کے اٹارنی جنرل ڈین رے فیلڈ اور نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیا جیمز نے بھی ٹرمپ انتظامیہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں شکست کے باوجود عوام اور چھوٹے کاروباروں پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ان دلائل کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ سیکشن 301 کے تحت ٹیرف قانونی طور پر درست اور مؤثر اوزار ہیں۔
اس تاریخی مقدمے میں نیویارک، اوریگون کے علاوہ ایریزونا، کیلیفورنیا، کولوراڈو، کنیکٹی کٹ، ڈیلاویئر، ہوائی، الینوائے، کینٹکی، میساچوسٹس، میری لینڈ، مین، مشی گن، مینیسوٹا، نیواڈا، نیو جرسی، نیو میکسیکو، نارتھ کیرولائنا، پنسلوانیا، رہوڈ آئی لینڈ، ورجینیا، ورمونٹ، واشنگٹن اور وسکونسن سمیت کل 25 ریاستیں شامل ہیں

