واشنگٹن ڈی سی :امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے یہ خبر بھی دی ہے کہ ’سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سنیچر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔‘
ایگزیوس کے مطابق ’ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ محمد بن سلمان نے ایران سے متعلق امریکی منصوبوں پر تشویش کا اظہار کیا اور اس حوالے سے وضاحت طلب کی۔‘
انہوں نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر نئے فوجی حملوں کے امریکی منصوبوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق اس فون کال کے دوران سعودی ولی عہد نے صدر ٹرمپ سے کشیدگی میں کمی (De-escalation) پر زور دیا اور حملے کے حوالے سے واضح حکمت عملی پر بات کی۔ سعودی عرب کا موقف ہے کہ ایسے کسی بھی بڑے حملے سے پانچ ماہ سے جاری اس جنگ میں غیر معمولی اور خطرناک اضافے کا خدشہ ہے، کیونکہ ایران پہلے ہی خلیجی ممالک اور اسرائیل کے توانائی اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے چکا ہے۔
ایگزیوس کے مطابق اس فون کال سے چند روز قبل ہی سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان (کے بی ایس) نے واشنگٹن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کی تھی، جس میں واضح کیا گیا تھا کہ سعودی عرب ایران کے ساتھ تنازع بڑھانے کے بجائے سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی کا حامی ہے۔
صرف سعودی عرب ہی نہیں بلکہ قطر، متحدہ عرب امارات، ترکی اور پاکستان سمیت دیگر علاقائی قوتیں بھی امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کو کم کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
دوسری جانب قطری ثالثوں نے تہران، وائٹ ہاؤس کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور عمانی حکام کے ساتھ الگ الگ ہنگامی مذاکرات کیے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کسی معاہدے پر پہنچا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ کوششیں خطرے کی اس گھنٹی کو ٹالنے کے لیے کافی ثابت ہوتی ہیں یا نہیں
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا صدر ٹرمپ کو فون، ایران پر مبینہ امریکی حملوں کے منصوبے پر اظہار تشویش ، وضاحت طلب، ایگزیوس

