اسکردو:دنیا کی 12ویں بلند ترین چوٹی ‘براڈ پیک’ پر گرنے والے ہولناک برفانی تودے نے کئی ہنستے بستے گھر اجاڑ دیے ہیں۔ اس دلخراش حادثے میں جہاں نرمل پرجا سمیت عالمی شہرت یافتہ کوہ پیماؤں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، وہیں گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ سے تعلق رکھنے والے نامور اور تجربہ کار پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی بھی لاپتہ کوہ پیماؤں میں شامل ہیں، جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
مہم جوئی کی کمپنی ‘ایلیٹ ایکسپیڈیشنز’ نے حادثے کے بعد جاری بیان میں افسوسناک خبر دی ہے کہ اس سانحے میں نرمل پرجا سمیت ٹیم کے 10 ارکان ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت نیک نام کریم کے مطابق سہیل سخی اس وقت لاپتہ ہیں۔ الپائن کلب آف پاکستان کا کہنا ہے کہ اب تک چند لاشیں سکردو اسپتال منتقل کی جا چکی ہیں، جبکہ دیگر لاشیں انتہائی خطرناک اور مشکل مقامات پر ہونے کی وجہ سے نکالنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
بیٹے کی گمشدگی کے بعد سے سہیل سخی کی والدہ شدید صدمے اور بے یقینی کی کیفیت میں ہیں اور اب بھی کسی معجزے کی منتظر ہیں۔ انہوں نے روتے ہوئے کہا کہ "میرا بیٹا پہاڑوں کا عاشق تھا… اگر وہ اس دنیا میں نہیں رہا تو کم از کم مجھے اس کی لاش ہی واپس دے دو تاکہ مجھے کچھ سکون مل سکے، اب ہم میں مزید انتظار کی ہمت نہیں رہی۔”
سہیل سخی کا شاندار کوہ پیمائی کا سفر:
ہنزہ سے تعلق رکھنے والے سہیل سخی ملک کے انتہائی تجربہ کار اور مایہ ناز ہائی آلٹیٹیوڈ کوہ پیما شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد کی کامسیٹس یونیورسٹی سے فزکس میں ماسٹرز کیا تھا، لیکن پہاڑوں سے بے پناہ عشق نے انہیں اسی شعبے میں کیریئر بنانے پر مجبور کیا۔ وہ اس سے قبل کے ٹو، نانگا پربت، گاشر برم ون اور گاشر برم ٹو جیسی خطرناک چوٹیاں سر کر چکے ہیں، جن میں سے کئی انہوں نے بغیر اضافی آکسیجن کے فتح کیں۔ رواں سال مئی 2026 ہی میں انہوں نے دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی ‘کنچن جنگا’ (8,586 میٹر) کو بھی بطور روٹ فکسنگ ٹیم ممبر کامیابی سے سر کیا تھا۔

