سکھر(ڈویزنل بیوروچیف نصیر لاشاری کی رپورٹ )
سکھر کے علاقے گھنٹہ گھر کے رہائشی شیخ اور راجپوت برادری کے افراد نے گڈانی برادری سے تعلق رکھنے والے بااثر افراد کی جانب سے ایک نوجوان کو مبینہ طور پر بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور انصاف و تحفظ کی فراہمی کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔احتجاج کی قیادت ماجد علی شیخ، مائی رابعہ راجپوت اور مجیب الرحمٰن شیخ نے کی۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مجیب الرحمٰن شیخ نے الزام عائد کیا کہ تقریباً دو ماہ قبل علی زمان گڈانی، ہادی گڈانی، حیات جونیجو اور چار نامعلوم افراد نے ایوب گیٹ کے قریب انہیں روک کر دوستی کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی اور انکار کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے انکار کیا تو ملزمان نے مبینہ طور پر پستول نکالنے کی کوشش کی، تاہم اسی دوران اسلحہ زمین پر گر گیا۔ ان کے مطابق موقع پر موجود تقریباً 15 پولیس اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرکے متعلقہ تھانے منتقل کیا، جہاں ان کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے بعد انہیں عدالتی کارروائی کے تحت جیل بھیج دیا گیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ مذکورہ ملزمان جیل سے رہائی کے بعد دوبارہ ان کی گھنٹہ گھر میں قائم دکان پر آئے اور انہیں بلاجواز بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ آئندہ بھی سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دیں۔مجیب الرحمٰن شیخ کے مطابق واقعے کے بعد انہوں نے تھانہ اے سیکشن میں رپورٹ درج کروائی، تاہم پولیس نے مبینہ طور پر ان کا طبی معائنہ (میڈیکل) کرانے سے انکار کرتے ہوئے معاملہ آپس میں طے کرنے کا مشورہ دیا، جس پر انہیں شدید تحفظات ہیں۔احتجاجی مظاہرین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیرِ اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے نامزد ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے، متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔


