سابق وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ اعتراف کہ نظام ناکام ہو چکا ہے اور ملک کے حالات بہتر نہیں کر پا رہا، ایک بہت بڑی بات ہے۔ وہ اس ہائبرڈ نظام کا نمایاں ترین چہرہ ہیں۔ اب جبکہ انہیں بھی وہ حقیقت سمجھ آ گئی ہے جس کی طرف ہم میں سے بہت سے لوگ کافی عرصے سے توجہ دلا رہے ہیں، تو اب اگلا قدم اٹھانے کا وقت ہے۔
محسن نقوی کا یہ اعتراف کہ نظام ناکام ہو چکا ہے اور ملک کے حالات بہتر نہیں کر پا رہا، ایک بہت بڑی بات ہے۔ وہ اس ہائبرڈ نظام کا نمایاں ترین چہرہ ہیں۔
اب جبکہ انہیں بھی وہ حقیقت سمجھ آ گئی ہے جس کی طرف ہم میں سے بہت سے لوگ کافی عرصے سے توجہ دلا رہے ہیں، تو اب اگلا قدم اٹھانے کا وقت…— Asad Umar (@Asad_Umar) July 31, 2026
سماجی رابطے کی ویب سائٹ’’ایکس‘‘ پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا یہ نہ سمجھیں کہ تمام دانائی صرف آپ ہی کے پاس ہے اور نہ ہی بند کمروں میں بیٹھ کر نظام کی اصلاح کا کوئی نسخہ قوم پر مسلط کریں۔ اس کے بجائے ایک حقیقی، سنجیدہ اور جامع قومی مکالمے کا آغاز کریں۔ تمام سیاسی جماعتوں اور تمام سیاسی رہنماؤں کو اس عمل میں شامل کیا جائے۔ میڈیا میں کھلی قومی بحث کی جائے۔ سیاست دانوں اور سول سوسائٹی کے تمام طبقات کو آزادی کے ساتھ اپنے خیالات کے اظہار کا موقع دیا جائے۔ خصوصاً چھوٹے صوبوں کی آواز کو توجہ سے سنا جائے۔ قومی اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے، پھر جن اصلاحات پر اتفاق ہو انہیں نافذ کیا جائے تاکہ نظام کو قائدِاعظمؒ کے وژن اور پاکستان کے عوام کی خواہشات کے مطابق ڈھالا جا سکےاسد عمر نے مزید کہا بند کمروں میں بیٹھ کر یکطرفہ سوچ پر مبنی فیصلے مسلط کرنا صورتحال کو بہتر نہیں بلکہ مزید خراب کرے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ توفیق اور حکمت عطا فرمائے کہ ہم اپنے ملک کے مفاد کو مقدم رکھیں، نہ کہ اپنی ذات، اپنی جماعت یا اپنے ادارے کے مفادات کو۔

