سکھر(ڈویزنل بیورو چیف نصیر لاشاری کی رپورٹ )
روہڑی کے رہائشی ماں بیٹے نے سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے انصاف اور تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ احتجاج میں شریک خاتون صائمہ اپنے بیٹے عبدالرافع میمن کے ہمراہ موجود تھیں، جہاں انہوں نے عبدالرافع کے والد عبدالوہاب پر مبینہ تشدد، ہراساں کرنے اور جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے کی دھمکیاں دینے کے سنگین الزامات عائد کیے۔احتجاج کے دوران عبدالرافع میمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تقریباً چھ سال قبل ان کی والدہ صائمہ کی ان کے والد عبدالوہاب سے طلاق ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پانچ بہن بھائی ہیں، جن میں سے عدالتی احکامات کے تحت انہیں والد کی تحویل میں دیا گیا تھا۔عبدالرافع کا کہنا تھا کہ والد کی تحویل میں رہنے کے دوران انہیں مسلسل مبینہ تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق والد نہ تو ان کے تعلیمی اور روزمرہ اخراجات برداشت کرتے ہیں اور نہ ہی انہیں مناسب رہائش اور بنیادی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، جس کے باعث انہیں شدید ذہنی اذیت کا سامنا ہے۔انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ان کے والد نے انہیں تین مرتبہ روہڑی تھانے میں بند کروایا، جہاں مبینہ طور پر ان پر تشدد بھی کیا گیا۔ عبدالرافع کے مطابق اب انہیں چرس اور شراب کے جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں تاکہ انہیں مزید مشکلات سے دوچار کیا جا سکے۔اس موقع پر عبدالرافع کی والدہ صائمہ نے بھی مطالبہ کیا کہ ان کے بیٹے کے ساتھ ہونے والے مبینہ ناروا سلوک اور دیگر الزامات کی غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔ انہیں اور ان کے بیٹے کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے محفوظ رہ سکیں۔ماں اور بیٹے نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر رینج، ایس ایس پی سکھر اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے الزامات کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں، انہیں قانونی تحفظ فراہم کیا جائے اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

