سنگاپور کے سخت عوامی نظم و ضبط اور صفائی کے قوانین ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں۔ سنگاپور کی ایک عدالت نے صفائی کے اصولوں سے کھلواڑ کرنے اور عوام میں تشویش پھیلانے کے الزام میں ایک 19 سالہ فرانسیسی نوجوان کو قصوروار قرار دیتے ہوئے 600 سنگاپور ڈالر کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔
نیوز ایجنسی کے مطابق، دیدیئر گاسپارڈ اوون میکسیملین نامی اس نوجوان نے عدالت میں اس بات کا اعتراف کیا کہ اس نے ایک اورنج جوس وینڈنگ مشین کا پائپ چاٹ کر دوبارہ اس کے ڈسپنسر میں رکھ دیا تھا اور اس گھناؤنے عمل کی ویڈیو سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر اپ لوڈ کی تھی۔
یہ ویڈیو رواں سال 12 مارچ کو منظر عام پر آتے ہی جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تھی۔ سوشل میڈیا پر شدید عوامی ردعمل کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا تھا۔
سماعت کے دوران جج کیلی ہو نے ریمارکس دیے کہ ملزم کی کم عمری اور جرم کی نوعیت کے پیش نظر اسے پروبیشن یا کمیونٹی سروس جیسی متبادل سزائیں نہیں دی جا سکتی تھیں۔
دوسری جانب، پراسیکیوشن نے دفاع کے اس مؤقف سے اتفاق کیا کہ چونکہ کوئی بھی عام شہری اس آلودہ پائپ کو استعمال نہیں کر پایا تھا اور نقصان کا کوئی عملی ثبوت سامنے نہیں آیا، اس لیے اس معاملے میں صرف جرمانہ ہی کافی سزا ہے۔
سنگاپور میں گھناؤنی حرکت مہنگی پڑ گئی: فرانسیسی نوجوان نے ایسا کیا کردیا کہ 460 ڈالر جرمانہ بھرنا پڑا!

