لاہور:اعلی سطحی انکوائری کمیٹی کا اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوا ن کے گھر کادورہ ، ثبوت و شواہد کا جائزہ لیا
رپورٹ کے مطابق علیٰ سطحی انکوائری کمیٹی اور پولیس حکام نے جائے وقوعہ کا دورہ کر کے شواہد کا جائزہ لیا ہے
یادرہے لاہور میں اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان کے گھر پر پولیس کے مبینہ اور غلط چھاپے کے بعد ایس ایچ او سرور روڈ سمیت 11 پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے محکمانہ کارروائی کی جارہی ہے۔ پولیس حکام کا مؤقف ہے کہ اہلکاروں کو اٹارنی جنرل کے پڑوس میں واقع ایک مکان میں جرائم پیشہ افراد یا مشکوک سرگرمی کی اطلاع ملی تھی، تاہم انہوں نے غلطی سے اٹارنی جنرل منصور اعوان کے گھر پر کارروائی کر ڈالی۔
کارروائی کے وقت اٹارنی جنرل گھر پر موجود نہیں تھے بلکہ ایک میٹنگ میں مصروف تھے تاہم ان کے گھر کچھ اہم شخصیات موجود تھیں۔
دوسری طرف لاہور کی سیشن عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان منصور اعوان کے گھر غلطی سے چھاپہ مارنے کے مقدمے میں ایس ایچ او سمیت چھ پولیس اہلکاروں کی عبوری ضمانت 12 اگست تک منظور کرلی۔ عدالت نے ملزمان کو 50،50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے اور تفتیش میں شامل ہونے کا حکم دیا۔ پولیس کے مطابق اہلکار مطلوبہ افراد کی اطلاع پر غلطی سے اٹارنی جنرل کے گھر داخل ہوئے تھے، جہاں ملازمین کو ہراساں کرنے، گملے توڑنے اور سی سی ٹی وی ریکارڈنگ ڈیلیٹ کرنے کے الزامات سامنے آئے۔

