انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی کا حکومت کے خلاف احتجاج جاری ہے اور رات بھر پولیس و مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہیں جبکہ وزیراعظم کے گھر کے باہر سے گرفتار کیے گئے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو رہا کر دیا گیا ہے۔
انڈین میڈیا کی رپورٹس کے مطابق راہل گاندھی اور پریانکا گاندھی کو منگل کی رات اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب انہوں نے کاکروچ جنتا پارٹی سے یکجہتی کے طور پر وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا دیا تھا، تاہم پریانکا گاندھی کو تھوڑی دیر بعد چھوڑ دیا گیا تھا۔
گرفتاری کے وقت کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ راہل گاندھی اور دوسرے رہنماؤں کو پولیس زبردستی ہٹاتے ہوئے ساتھ لے جاتی ہے۔
دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج منگل اور بدھ کی درمیانی رات بھی جاری رہا، مظاہرین پر پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج بھی کیا گیا جبکہ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا، ان واقعات میں کئی افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
رہائی کے بعد راہل گاندھی پھر کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں شرکت کیلئے جنتر منتر پہنچ گئے،
رپورٹ کے مطابق کانگریس قائدین نے سب سے پہلےوزیراعظم مودی کی رہائش گاہ راجا جی مارگ کی طرف پیدل مارچ کیا،اس احتجاج میں ملکارجن کھرگے، پرینکا گاندھی واڈرا، کے سی وینوگوپال، اور پون کھیرا سمیت کئی قائدین شریک ہیں۔
हमारे साथ जो हुआ, वो महत्वपूर्ण नहीं है। हम छात्रों के साथ हैं, उनकी आवाज उठा रहे हैं। उनके साथ गलत हुआ है, वह ज्यादा महत्वपूर्ण है। बच्चे वास्तविक समस्या पर शांतिपूर्ण प्रदर्शन कर रहे हैं। वे अपने अधिकार मांग रहे हैं। बार-बार पेपर लीक करके उनका भविष्य बर्बाद किया जा रहा है।… pic.twitter.com/2mRUygSlb1
— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) July 22, 2026
راہل گاندھی نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا، “طلباء پر حملہ ہر ہندوستانی خاندان پر حملہ ہے۔ وزیر اعظم مودی سوچتے ہیں کہ وہ جواب دیئے بغیر، نتائج کا سامنا کیے بغیر بھاگ سکتے ہیں – وہ ایسا نہیں کر پائیں گے، اور یقینی طور پر اس بار نہیں۔ میں ہر محب وطن ہندوستانی سے اپیل کرتا ہوں جو یہ مانتا ہے کہ ہمارے طلباء انصاف کے مستحق ہیں – وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے سامنے ہمارے احتجاج میں شامل ہوں۔” ہندوستان کے طلباء کی آواز کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے چیف ترجمان سورو داس نے دعویٰ کیا ہے کہ بدھ کی صبح پولیس نے ان سے رابطہ کرکے بتایا کہ بی جے پی کے رہنما جے پی نڈا ان سے بات کرنا چاہتے ہیں۔
تاہم، حکومت یا حکومتی جماعت کی جانب سے مذاکرات کی اس پیشکش پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سورو داس نے واضح کیا ہے کہ ان کی جماعت کسی کے دفتر ملاقات کے لیے نہیں جائے گی۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ "اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو ہم جنتر منتر کے قریب کسی غیر جانبدار مقام پر مل سکتے ہیں۔”
بدھ کے روز سنٹر فار جسٹس اینڈ پیس (سی جے پی) کے ترجمان اشوتوش رنکا نے طلبہ کے جاری احتجاج کے حوالے سے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے دبانے کی تمام کوششوں کے باوجود طلبہ کا یہ احتجاج اب "سو گنا زیادہ بڑا” ہو چکا ہے اور یہ حکومت کے خلاف ایک "فیصلہ کن جنگ” کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
اشوتوش رنکا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ "ان لوگوں نے سوچا تھا کہ وہ 20 جولائی کو طلبہ پر تشدد کروائیں گے اور احتجاج ختم ہو جائے گا، لیکن اب یہ تحریک سو گنا بڑی ہو چکی ہے۔ انہوں نے سوچا کہ وہ ہمیں خیمہ نہیں لگانے دیں گے اور احتجاج دم توڑ دے گا، مگر اب یہ ایک فیصلہ کن جنگ بن چکی ہے۔”
پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے اکلیش یادیو نے کہا کہ ہمیں پارلیمنٹ میں کیوں نہیں بولنے دیا جارہا اگر طلبا کی خاطر ہمیں یہاں بولنے دیا جاتا توہم وزیراعظم مودی کے گھر نہ جاتے،
BREAKING : This is absolute cinema 🔥
Akhilesh Yadav is giving belt treatment to BJP in Parliament
"The issue is not about BJP, Congress or Samajwadi. How dare you lathi charged students? We will hit streets again if minister doesn’t resign?” 🗿
Just look at body language 🔥 pic.twitter.com/8ZgjVW8TpG
— Amock_ (@Amockx2022) July 22, 2026
دوسری طرف سپریم کورٹ نے بدھ کے روز اُس درخواست پر فوری سماعت سے انکار کر دیا، جس میں NEET پیپر لیک تنازع کے خلاف دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے زیرِ اہتمام ہونے والے مارچ کے دوران طالب علم مظاہرین پر پولیس کی مبینہ کارروائی کی عدالتی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
یہ معاملہ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کے سامنے ایڈووکیٹ نریندر مشرا نے اٹھایا، جنہوں نے درخواست کو فوری طور پر سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ مظاہرے کے دوران پولیس نے مظاہرین کے ساتھ بدسلوکی اور زیادتی کی۔ یہ احتجاج مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور امتحان کے نظام میں اصلاحات کے مطالبے کے لیے کیا جا رہا تھا۔جب کونسل نے مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کی مبینہ ویڈیوز کا حوالہ دیا، تو چیف جسٹس نے کہا: ہمیں ویڈیوز میں کوئی دلچسپی نہیں ہے؛ ہمارے پاس دیکھنے کا وقت نہیں ہے۔

