انڈیاکی مختلف ریاستوں میں بارش کے سبب بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں۔ سب سے خراب حالات آسام کے ہیں، جہاں سیلاب اور مسلسل بارش کی وجہ سے نظام زندگی درہم برہم ہے۔ ’آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی‘ (اے ایس ڈی ایم اے) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 21 لوگوں کی موت کے بعد اموات کی تعداد بڑھ کر 31 ہو گئی ہے۔ ریاست کے 16 اضلاع میں 5.64 لاکھ سے زیادہ افراد سیلاب سے متاثر ہیں۔ وہیں ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر میں بارش کی وجہ سے دشواریوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ واضح رہے کہ سب سے زیادہ سیلاب متاثرہ آسام کا شیو ساگر ضلع ہے۔ جہاں 3.59 لاکھ افراد سیلاب کی زد میں ہیں۔ چرائیدیو، جورہاٹ اور گولاگھاٹ اضلاع بھی شدید متاثر ہیں۔ 44 ریونیو ڈویژنوں کے 872 دیہات زیر آب ہیں۔ راحت رسانی کے لیے 71 کیمپ اور 202 ’ریلیف ڈسٹری بیوشن سینٹر‘ چلائے جا رہے ہیں۔ جہاں ہزاروں بے گھر افراد کو ٹھہرایا گیا ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ آسام کے وزیر اعلی ہیمنت بسوا سرما بدھ کے روز سے متاثرہ اضلاع کا دورہ کریں گے اور راحت رسانی کے کاموں کا جائزہ لیں گے۔ آسام میں برہم پترا، دیکھو، دیسانگ اور دھانسیری سمیت کئی بڑی ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ فوج، این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف اور فائر ڈپارٹمنٹ کی ٹیمیں راحت رسانی کے کاموں میں مسلسل مصروف ہیں۔ سیلاب کا اثر محکمہ ریل پر بھی پڑ رہا ہے۔ بالائی علاقوں میں ریلوے ٹریک پر پانی بھر جانے کی وجہ سے کئی ٹرینوں کو رد، جزوی طور پر منسوخ یا روٹ تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ہماچل پردیش میں بھی موسلادھار بارش کی وجہ سے کافی تباہی ہوئی ہے۔ کانگڑا ضلع کی بوہ وادی میں بادل پھٹنے اور فلیش فلڈ کے سبب کئی مکانات، گئو شالائیں اور کھیت ملبے تلے دب گئے۔ راحت کی بات یہ ہے کہ بروقت لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیاہے، جس کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ حالانکہ کئی مویشی ہلاک ہو گئے اور ایک خاتون زخمی ہوئی ہیں۔
محکمہ موسمیات کے ذریعہ جاری کیے گئے ریڈ الرٹ کی وجہ سے کانگڑا، منڈی اور سرمور اضلاع کے سبھی اسکول اور کالج بند کر دیے گئے ہیں۔ کنور میں لینڈ سلائیڈںگ کی وجہ سے نیشنل ہائی وے-5 بند ہے۔ جب کہ ریاست میں 36 سڑکیں، 43 پینے کے پانی کی اسکیمیں اور 5 بجلی کے ٹرانسفرمر متاثر ہوئے ہیں۔ جموں خطے میں مسلسل بارش، بادل پھٹںے اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے حالات سنگین ہو گئے ہیں۔ پونچھ راجوری، اور ڈوڈا اضلاع میں اتوار کے روز سے اب تک بارش سے متعلقہ واقعات میں 23 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ جب کہ 7 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ خراب موسم کے پیش نظر امرناتھ یاترہ، وشنو دیوی یاترہ، شیو کھوری یاترہ اور مچیل ماتا یاترہ تیسرے روز بھی معطل رہی۔ انتظامیہ نے ہائی الرٹ جاری کرکے، راحت رسانی کی مہم تیز کر دی ہے۔ ناگالینڈ کے مون ضلع میں لینڈ سلائیڈنگ اور شدید بارش کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 9 ہو گئی ہے، جبکہ 4 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ ریاست کے 10 اضلاع کے93 گاؤں متاثر ہوئے ہیں۔ وہیں اروناچل پردیش میں مسلسل بارش کے باعث 5 اضلاع میں سیلاب کی صورتِ حال برقرار ہے۔ موجودہ مانسون میں ریاست کے تقریباً 1.49 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

