ہنگورجہ (رپورٹ ڈسٹرکٹ خیرپور فیاض محسن سولنگی)
ہنگورجہ شہر میں بڑھتی ہوئی بدامنی، چوری، ڈکیتی، راہزنی اور منشیات کے بڑھتے ہوئے دھندےکے خلاف شہریوں، سیاسی و سماجی رہنماؤں، اساتذہ اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے ایک پرامن ریلی نکالی۔ ریلی ہنگورجہ بس اسٹاپ سے شروع ہو کر شہر کی مختلف شاہراہوں سے گزرتی ہوئی مچھر چوک پہنچی، جہاں شرکاء نے امن و امان کی بحالی کے لیے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔امن ریلی کی قیادت عبدالسلام میمن، استاد جعفر ٹانوری، استاد امداد سومرو، ذاکر دایو اور دیگر رہنماؤں نے کی، جبکہ ریلی میں ہنگورجہ کے تاجر، سیاسی و سماجی شخصیات، نوجوان، اساتذہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر امن کی بحالی اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کے مطالبات درج تھے۔اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہنگورجہ اور اس کے نواحی علاقوں میں آئے روز چوری، ڈکیتی، راہزنی اور منشیات جیسے جرائم میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث شہری شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس امن و امان برقرار رکھنے، جرائم پیشہ افراد کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔مقررین نے مزید کہا کہ ہنگورجہ تھانے میں کئی برسوں سے ایک ہی پولیس عملہ تعینات ہونے کی وجہ سے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں ہو رہی، جس کے باعث جرائم پیشہ افراد بے خوف ہو کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر صورتحال پر فوری قابو نہ پایا گیا تو عوام کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد مزید متاثر ہوگا۔ریلی کے اختتام پر رہنماؤں نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی خیرپور سے مطالبہ کیا کہ ہنگورجہ تھانے میں کئی برسوں سے تعینات پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر تبدیل کر کے دیانتدار، باصلاحیت اور فرض شناس عملہ تعینات کیا جائے، جرائم پیشہ عناصر اور منشیات فروشوں کے خلاف بلاامتیاز سخت آپریشن کیا جائے اور ہنگورجہ شہر میں امن و امان بحال کر کے شہریوں کو جان و مال کا تحفظ فراہم کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے جائز مطالبات پر فوری عمل درآمد نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

