تہران / واشنگٹن / کویت سٹی:امریکا اور ایران کے درمیان جاری عسکری محاذ آرائی خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ سخت گیر مؤقف رکھنے والے ایرانی اخبار "کیہان” نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے ‘پیک ایکسا پہاڑ’ (Pickaxe Mountain) یا کسی بھی دیگر جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا، تو اسلامی جمہوریہ ایران بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے نامعلوم مقامات سے امریکہ کی جوہری تنصیبات پر تباہ کن حملے کرے گا۔ اخبار کے مطابق یہ اقدام "آنکھ کے بدلے آنکھ” کے اصول اور دفاعی حکمت عملی کے تحت اٹھایا جائے گا۔
کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرون حملہ
دوسری جانب ایرانی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے بدھ کے روز کویت کے علاقے الدوحہ میں امریکی فوجی رسد اور اسلحہ ڈپو کو نشانہ بناتے ہوئے ایک بڑا ڈرون حملہ کیا ہے۔ ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کے مختلف حصوں پر ہونے والے نئے امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔
🚨🇮🇷 🇰🇼 Iran's Army claims a large-scale drone strike on Camp Doha in Kuwait, a base America largely vacated years ago…
-The Army says its drones hit ammunition depots and logistics equipment at what it calls a U.S. Army Ground Forces command facility in western Kuwait a few… pic.twitter.com/1QuDFfo09T
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) July 22, 2026
امریکا کی لگاتار 11 ویں رات بمباری : سینٹکام
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ اس کی فورسز نے ایران کے خلاف لگاتار گیارہویں رات بھی فضائی حملے جاری رکھیں۔ ان حملوں کا مقصد ایرانی عسکری آپریشنز سینٹرز، ڈرون و طیارہ ہینگرز اور بحری صلاحیتوں کو تباہ کرنا ہے تاکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی شپنگ کے لیے خطرات کو کم کیا جا سکے۔
ایران اپنی میزائل صلاحیتوں کو بحال کرچکا ہے، وال اسٹریٹ جرنل
ادھر ‘وال اسٹریٹ جرنل’ (WSJ) نے ملٹری تجزیہ کاروں اور سیٹلائٹ تصاویر کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ امریکی اور اسرائیلی بمباری کے باوجود ایران نے اپنی میزائل صلاحیتوں کا کافی حد تک احیاء کر لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی حکام کے ان دعوؤں کے برعکس کہ تہران کی میزائل طاقت کو شدید نقصان پہنچا ہے، ایران نے بعض زیرِ زمین میزائل فیکٹریوں میں دوبارہ کام شروع کر دیا ہے اور امریکی افواج و اتحادیوں پر ڈرون اور میزائل حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
امریکا اب بھی ایران سے مذاکرات چاہتا ہے، مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا اب بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے بحران حل کرنا چاہتا ہے۔
فلپائن میں جاری آسیان وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکا مذاکرات کیلئے تیار ہے، ایران سنجیدہ نہیں، ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات سے متعلق سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کررہا۔
یادرہےبحیرۂ احمر کے دہانے پر واقع ساحلی علاقے پر کنٹرول رکھنے والے حوثی باغیوں نے پیر کو سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کردیا جس سے جنگ میں ایک نئے محاذ کے کھلنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ یہ تنازع 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد شروع ہوا تھا اور اب تک خلیجی خطے میں ہزاروں افراد کی جانیں لے چکا ہے۔
خلیج فارس سے باہر نکلنے والے آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی نقل و حمل کو ایران کی طرف سے پہلے ہی دھمکیوں کا سامنا ہے جبکہ بحیرہ احمر یومیہ لاکھوں بیرل سعودی تیل کی ترسیل کے لیے اہم ترین متبادل راستہ فراہم کرتا رہا ہے۔
ثالث ممالک نے 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز دی ہے، ایران
ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ تہران کو ثالث ممالک کی جانب سے 10 روزہ جنگ بندی کی ایک تجویز موصول ہوئی ہے۔ اس تجویز کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان جون میں طے پانے والے عبوری جنگ بندی معاہدے کو برقرار رکھنا ہے۔

