نئی دہلی: ہندوستان میں جون 2026 کے دوران گھریلو فضائی سفر کی رفتار میں نمایاں کمی درج کی گئی ہے۔ شہری ہوابازی کے ڈائریکٹوریٹ جنرل (ڈی جی سی اے) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، جون میں گھریلو فضائی مسافروں کی تعداد تقریباً 12 فیصد گھٹ کر 1.35 کروڑ رہ گئی، جبکہ مئی 2026 میں یہ تعداد 1.53 کروڑ تھی۔ ایک ہی ماہ میں مسافروں کی تعداد میں اس نمایاں کمی کو ایئرلائن کمپنیوں کے لیے تشویش کا باعث قرار دیا جا رہا ہے۔
اگرچہ گزشتہ برس جون کے مقابلے میں یہ کمی بہت زیادہ نہیں ہے، لیکن ماہانہ بنیاد پر فضائی سفر میں آنے والی گراوٹ نے اس شعبے کے لیے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جون، جولائی اور اگست کے مہینے روایتی طور پر فضائی کمپنیوں کے لیے کمزور سیزن تصور کیے جاتے ہیں۔ گرمیوں کی تعطیلات کے اختتام کے بعد سفر کرنے والوں کی تعداد میں فطری طور پر کمی آ جاتی ہے، جس کا اثر فضائی ٹریفک پر بھی پڑتا ہے۔
اس کے علاوہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) کی قیمتوں میں اضافہ بھی ایئرلائن صنعت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ ایندھن کی بڑھتی لاگت کے پیش نظر کئی ایئرلائن کمپنیوں نے بعض روٹس پر اپنی پروازوں کی تعداد میں کمی کی ہے، جس کے نتیجے میں مسافروں کی مجموعی تعداد متاثر ہوئی ہے۔

