واشنگٹن:صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کابینہ کے بیشتر ارکان نے باضابطہ طور پر اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ لانچ کردئیے۔
یہ اہم قدم محکمہ انصاف (DOJ) کی جانب سے وفاقی ملازمین کو یہ گرین سگنل ملنے کے چند دن بعد اٹھایا گیا ہے کہ ٹک ٹاک اب ایک امریکی منظور شدہ مالک کو فروخت کیے جانے کے بعد استعمال کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہے۔
ایگزیوس کی رپورٹ کےمطابق یہ اقدام ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے مقابلے میں ایک حیرت انگیز یو ٹرن کی حیثیت رکھتا ہے، جب ان کی انتظامیہ نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ چینی کمپنی بائٹ ڈانس (ByteDance) کی ملکیت کی وجہ سے ٹک ٹاک قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ خود ٹک ٹاک جوائن کرنے کے بعد اب کابینہ کے یہ اعلیٰ عہدیدار دراصل یہ واضح پیغام دے رہے ہیں کہ ٹک ٹاک اب سرکاری پیغامات اور پروپیگنڈے کے لیے ایک قابلِ قبول اور موثر پلیٹ فارم بن چکا ہے۔
واضح رہے کہ 2022 کے ‘نو ٹک ٹاک آن گورنمنٹ ڈیوائسز ایکٹ’ کے تحت سرکاری فونز پر اس ایپ کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی تھی. تاہم، ٹرمپ کے موجودہ محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ رواں سال کے آغاز میں کمپنی کی ملکیت ایک امریکی کنٹرول والے ادارے میں منتقل ہونے کے بعد اب وہ قانون اس پر لاگو نہیں ہوتا.
ٹرمپ انتظامیہ اب ٹک ٹاک کو نوجوان ووٹرز تک پہنچنے کے ایک طاقتور ٹول کے طور پر دیکھ رہی ہے. صدر ٹرمپ خود 2024 سے اس ایپ پر موجود ہیں, اور ان کی کئی پوسٹس—جن میں ان کے یو ایف سی (UFC) ایونٹ میں شرکت کی ویڈیو بھی شامل ہے—سینکڑوں ملین ویوز حاصل کر چکی ہیں.
قومی سلامتی کا خطرہ یا ووٹ مہم کا ہتھیار؟ امریکی حکومت کی’’ٹک ٹاک‘‘ پر واپسی

