نیویارک/لندن: امریکا اور ایران کے درمیان خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈی میں شدید ہلچل مچ گئی ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک ماہ سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کاروبار کے اختتام پر برینٹ خام تیل کے سودے 3.87 ڈالر کے نمایاں اضافے کے ساتھ 88.10 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 3.54 ڈالر بڑھ کر 82.49 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران دونوں عالمی معیاری تیل کی قیمتوں میں تقریباً 16 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو توانائی کی فراہمی میں ممکنہ خلل پر سرمایہ کاروں کی گہری تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔
آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کا بحران ماہرین کا کہنا ہے کہ کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جہاں سے دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل گزرتا ہے۔ اینڈریو لیپو (صدر، لیپو آئل ایسوسی ایٹس) کے مطابق اگر ٹینکروں پر حملوں کا سلسلہ نہ رکا تو جہاز رانی کمپنیاں خلیج فارس میں داخلے سے گریز کریں گی، جس سے قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں۔ ایران کی جانب سے بحیرہ احمر کو بند کرنے کی دھمکی نے بھی منڈی میں خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔
توانائی کا عالمی بحران: خام تیل کی قیمتوں میں 16 فیصد تک اضافہ، سپلائی چین متاثر

