اسلام آباد/شنگھائی:پاکستان نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (مصنوعی ذہانت) کے عالمی میدان میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ‘ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن’ (وائیکو) کے بانی اراکین میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ چین کے شہر شنگھائی میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان کی جانب سے اس نئی بین الحکومتی تنظیم کے قیام کے معاہدے پر دستخط کیے۔
وائیکو (WAICO) کیا ہے؟
اس نئی عالمی تنظیم کا مرکزی ہیڈکوارٹر شنگھائی میں ہوگا، جس کا بنیادی مقصد مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی تعاون، بہتر گورننس اور ٹیکنالوجی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔ یہ تنظیم اقوامِ متحدہ کے منشور کے تحت کام کرے گی اور اس کی توجہ گلوبل ساؤتھ کے ممالک میں اے آئی ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی پر مرکوز ہوگی۔
وزارتِ خارجہ کے اعلامیے کے مطابق، اس معاہدے پر دستخط کے بعد پاکستان نے گلوبل ساؤتھ کے تناظر میں مصنوعی ذہانت کے فوائد کو وسیع تر کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ پاکستان دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر ٹیکنالوجی کی عالمی تقسیم کو کم کرنے اور اے آئی کے ترقیاتی ثمرات کو ترقی پذیر ممالک تک پہنچانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائے گا۔
اس نئی تنظیم میں پاکستان کے علاوہ روس، انڈونیشیا، قازقستان، برازیل، بیلاروس، سربیا، کیوبا اور وینزویلا سمیت مجموعی طور پر 29 ممالک شامل ہیں۔ زیادہ تر رکن ممالک کا تعلق ‘گلوبل ساؤتھ’ سے ہے، جو معاشی اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے ترقی پذیر ممالک کا بلاک مانا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ اگرچہ چین اب ایک بڑی عالمی طاقت ہے، لیکن وہ خود کو گلوبل ساؤتھ کا حصہ قرار دیتے ہوئے ترقی پذیر خطوں کے ساتھ ٹیکنالوجی کے اشتراک پر زور دیتا ہے۔
واضح رہے کہ شنگھائی میں 17 سے 20 جولائی تک جاری رہنے والی ‘ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس’ بھی شروع ہو رہی ہے۔ چار روزہ اس کانفرنس میں دنیا بھر کے حکومتی نمائندے، نامور ٹیکنالوجی ماہرین اور بڑی کمپنیاں اے آئی کے مستقبل اور انسانی مفادات کے تحفظ پر غور کریں گی۔

