اسلام آباد:وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے دیت (خون بہا) کی مالیت میں تاریخی اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت خزانہ نے وفاقی کابینہ کو تجویز دی ہے کہ دیت کی رقم 19.3 ملین (ایک کروڑ 93 لاکھ) روپے مقرر کی جائے، جو ملک کی تاریخ میں دیت کی مالیت میں اب تک کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔
مالیت میں کتنا اضافہ ہوگا؟
دستیاب معلومات کے مطابق، رواں مالی سال کے دوران دیت کی مالیت 9,828,670 روپے تھی، جس میں اب تقریباً دوگنا اضافہ متوقع ہے۔ یہ اضافہ چاندی کی قیمتوں میں عالمی منڈی میں ہونے والے تیزی سے اضافے کے پیش نظر کیا جا رہا ہے۔
قانونِ پاکستان کے تحت دیت کی مالیت چاندی کی قیمت کے ساتھ منسلک ہے۔ پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی سیکشن 323(2) کے مطابق، دیت کی مقدار 30,630 گرام چاندی کے مساوی ہونی چاہیے۔ ہر سال چاندی کی موجودہ مارکیٹ قیمت کے حساب سے اس رقم پر نظر ثانی کی جاتی ہے، اور منظوری کے بعد یہ عدالتوں اور متعلقہ اداروں کے لیے قانونی طور پر بائنڈنگ (لازمی) ہو جاتی ہے۔
اگلا قدم کیا ہوگا؟
وزارت خزانہ کی تجویز: مالی سال 2026-27 کے لیے 19.3 ملین روپے کی رقم تجویز کر دی گئی ہے۔
وفاقی کابینہ کی منظوری: حتمی منظوری کے لیے سمری وفاقی کابینہ کو بھجوا دی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن: کابینہ کی منظوری کے بعد وزارت خزانہ باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرے گی، جس کے بعد یہ نئی شرح نافذ العمل ہو جائے گی۔
اس اضافے سے عدالتوں میں زیرِ التواء دیت کے کیسز اور قانونی ورثاء کو ملنے والی تلافی کی رقم میں براہِ راست فرق پڑے گا۔

