امریکہ اور ایران نے حالیہ دنوں میں ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ اقدامات میں اضافہ کیا ہے۔ امریکہ نے ایران کے کئی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے اور انہیں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جب کہ ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے پورے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام اور خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
نئی دہلی: امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق وزیر دفاع مارک ایسپر نے خبردار کیا ہے کہ صرف فضائی حملوں کے ذریعے ایران کے خلاف جنگ جیتنا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلسل بمباری سے تہران کی پالیسی یا مؤقف میں بنیادی تبدیلی آنے کے امکانات بہت کم ہیں اور اس بحران کا مستقل حل صرف فوجی کارروائیوں سے نہیں نکل سکتا۔مارک ایسپر نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اگرچہ فوجی طاقت وقتی دباؤ پیدا کر سکتی ہے، لیکن صرف بمباری کے ذریعے کسی ملک کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کرنا آسان نہیں ہوتا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی حملوں میں مزید شدت لانے کی ہدایت دی ہے، جس کے باعث مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
دوسری جانب ایران سے بھی اہم اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق تہران کے اطراف فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے، جب کہ ایران کے شہر بروجرد کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ اب تک ان دھماکوں کی نوعیت یا وجہ کے بارے میں کوئی سرکاری وضاحت سامنے نہیں آئی ہے اور نہ ہی کسی فریق نے ان واقعات کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔ادھر عوامی فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹس پر امریکی فضائیہ کے کئی فوجی طیاروں کی سرگرمیاں بھی دیکھی گئی ہیں۔ ان میں تین KC-135 اور دو KC-46A فضائی ایندھن فراہم کرنے والے طیارے شامل ہیں، جب کہ ایک E-3 AWACS طیارہ بھی پرواز کرتا دیکھا گیا، جو فضائی نگرانی اور ابتدائی انتباہی نظام کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی فلائٹ ٹریکنگ پلیٹ فارمز پر نظر آنے والے طیارے امریکی فوجی سرگرمیوں کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے، کیونکہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر متعدد فوجی طیارے اپنی لوکیشن عوامی نظام پر ظاہر نہیں کرتے۔ اس لیے خطے میں حقیقی فوجی نقل و حرکت اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔واضح رہے کہ امریکہ اور ایران نے حالیہ دنوں میں ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ اقدامات میں اضافہ کیا ہے۔ امریکہ نے ایران کے کئی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے اور انہیں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جب کہ ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے پورے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام اور خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

