اسکردو:گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں اچانک آنے والے شدید ترین سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں اہم ترین بین الاقوامی شاہراہِ قراقرم متعدد مقامات پر بند ہو گئی، سیلاب کے باعث اہم رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے سینکڑوں مسافر اور سیاح راستوں میں محصور ہو کر رہ گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق چلاس کے قریب تھور ویلی میں رات گئے ہونے والی موسلا دھار بارش کے بعد 6 سے زائد مقامات پر سیلابی ریلے آئے، بونر داس کے مقام پر شاہراہِ قراقرم کی بندش کے باعث سڑک کے دونوں اطراف گاڑیوں کی میلوں لمبی لائنیں لگ گئیں، جس میں مال بردار ٹرک، مسافر اور سیاح شدید مشکلات کا شکار ہیں، سیلاب کی وجہ سے بجلی کی ٹرانسمیشن لائنیں گرگئیں، جس کے باعث تھور ویلی اور دیگر قریبی متاثرہ علاقوں میں بجلی کی سپلائی مکمل طور پر معطل ہے اور پورا علاقہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے۔
چلاس وادی تھور کے مختلف علاقوں میں شدید سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مسافروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا#Gilgitbaltistan #kkh pic.twitter.com/t4zBKeh3fc— Roshan Din Diameri (@Rohshan_Din) July 13, 2026
بتایا گیا ہے کہ سیلابی ریلوں نے تھور لنک روڈ کا کئی مقامات سے نام و نشان مٹا دیا، جس سے ٹریفک کا نظام مکمل ٹھپ ہو گیا، اسی طرح چلاس کے علاقے نیاز میں بھی لنک روڈز کو شدید نقصان پہنچا، داریل سب ڈویژن کے علاقے خانباڑی شنگ شار نالے میں آنے والے سیلاب نے دو رہائشی مکانات کو ان کے سازوسامان سمیت بہا دیا، متعدد مال مویشی بھی اس سیلاب کی نذر ہو گئے۔
معلوم ہوا ہے کہ تھوسرکا کے مقام پر سیلابی پانی نے رہائشی آبادی کو دونوں طرف سے گھیر لیا، جس کی وجہ سے رات بھر لوگ محفوظ مقامات پر منتقل نہ ہو سکے، سیلاب کا ملبہ گھروں میں داخل ہو گیا ہے اور زرعی زمینوں، کھڑی فصلوں اور درختوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، سیلاب نے جہاں رہائشی علاقوں کو لپیٹ میں لیا، وہیں روڈ کنسٹرکشن کا کام کرنے والی ‘حسنات کمپنی’ کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا، سیلابی ریلے اپنے ساتھ کمپنی کے 13 ڈمپ ٹرک، 1 ایکسیویٹر، 1 کرشنگ پلانٹ اور 2 واٹر ٹینکرز کو بہا کر لے گئے۔
بتایا جارہا ہے کہ اس سیلابی صورتحال میں متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے حکومت اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سے پرزور اپیل کی ہے کہ علاقے میں فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کی جائیں، شاہراہِ قراقرم اور تباہ شدہ رابطہ سڑکوں کو ہنگامی بنیادوں پر کھولا جائے، بجلی کی بحالی کو یقینی بنایا جائے اور جن خاندانوں کے گھر اور مویشی تباہ ہوئے ہیں انہیں فوری معاوضہ دیا جائے۔

