قاہرہ / صنعاء:یمن میں ایک بار پھر جنگی حالات سنگین صورتحال اختیار کر گئے ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے صنعاء ایئرپورٹ پر فضائی بمباری کے جواب میں، ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے ابہا ہوائی اڈے کو میزائلوں اور ڈرون طیاروں سے نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں نے خطے میں برسوں سے جاری نسبتاً سکون کو ختم کر دیا ہے اور کشیدگی میں خطرناک اضافہ ہوا ہے۔
Surveillance camera footage at Saudi Arabia's Abha Airport capturing the moment of the Houthi rocket's impact. pic.twitter.com/A4aUR1pwCu
— Syed Abbas Araghchi (@SyedAbbasA3t) July 13, 2026
حوثی فوج کے ترجمان، بریگیڈیئر جنرل یحییٰ ساری نے ایک ویڈیو پیغام میں ایئر لائنز کو خبردار کیا ہے کہ وہ سعودی فضائی حدود کا استعمال نہ کریں، کیونکہ اب یہ "محفوظ نہیں” رہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی، تب تک یہ حملے جاری رہیں گے۔ حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ صنعاء پر حملہ ایک ایرانی طیارے کو اترنے سے روکنے کے لیے کیا گیا تھا، جس کا انہوں نے بھرپور جواب دیا ہے۔
Airstrikes hit Sanaa International Airport in Yemen, with the Houthis accusing Saudi Arabia of launching the attacks, breaking a four-year truce in the conflict between the kingdom and the Iran-aligned group https://t.co/iISgKWyMhm pic.twitter.com/dmA0SILAnS
— Reuters (@Reuters) July 14, 2026
اس پیش رفت کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل برائے سیاسی امور، خالد خیری نے کونسل کو خبردار کیا کہ "یمن اور یہ پورا خطہ اب مزید کسی بڑی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔” انہوں نے تمام فریقین سے فوری جنگ بندی اور اقوام متحدہ کی سرپرستی میں مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی اپیل کی ہے۔
سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر حملوں پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، تاہم ان حملوں نے عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی اور فضائی نقل و حمل کے تحفظ پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ دشمنی پورے خطے میں ایک نئی عسکری کشیدگی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے انسانی بحران میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

