مری (بیورو رپورٹ)
صدر پاکستان پیپلز پارٹی ضلع مری عبدالجبار ستی نے کہا ہے کہ کوٹلی ستیاں اور مری کو ملانے والی یہ واحد مرکزی شاہراہ صرف دو علاقوں کو نہیں بلکہ بن سانج، پڑھنہ، کروڑ، اریاڑی اور درجنوں دیگر دیہات و آبادیوں کو بھی آپس میں جوڑتی ہے۔ انہی علاقوں کے ہزاروں شہری روزانہ تعلیم، علاج، کاروبار، سرکاری امور اور ضلعی ہیڈکوارٹر تک رسائی کے لیے اسی سڑک پر انحصار کرتے ہیں۔ کوٹلی ستیاں کو سیاحتی مرکز کے طور پر ترقی دی جا رہی ہے، جس کے باعث مستقبل میں سیاحوں، مقامی آبادی اور سرکاری ٹریفک میں کئی گنا اضافہ ہوگا۔ ایسے میں اس اہم شاہراہ کو محدود چوڑائی کے ساتھ تعمیر کرنا مستقبل کے ٹریفک مسائل، حادثات اور عوامی مشکلات کی بنیاد رکھنے کے مترادف ہے۔ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ حکومت کے منتخب نمائندے بھی اس اہم عوامی مسئلے پر خاموش دکھائی دیتے ہیں، جبکہ عوام ایک ایسی شاہراہ کا مطالبہ کر رہے ہیں جو آنے والے کئی عشروں کی ضروریات پوری کر سکے، نہ کہ چند برس بعد ہی ناکافی ثابت ہو جائے۔انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ اس منصوبے پر فوری نظرثانی کرتے ہوئے کوٹلی ستیاں تا مری شاہراہ کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق کشادہ بنایا جائے، کیونکہ اس شاہراہ کو محدود کرنا درحقیقت پورے علاقے کی ترقی، سیاحت اور معاشی امکانات کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔

