راولپنڈی :پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا ہے کہ بلوچستان میں 4 روز میں دہشتگردی کے 3 بڑے واقعات ہوئے، یہ سب ہندوستان کروا رہا ہے۔ بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال پر میڈیا بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ 4 روز کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کے 3 بڑے واقعات رونما ہوئے، فتنہ الخوارج نے ہنہ اوڑک کے مقام پر معصوم لوگوں پر حملہ کیا، دہشت گردوں نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے معصوم شہریوں کو ہدف بنایا، ان حملوں میں مجموعی طور پر 4 عام شہری شہید ہوئے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ زیارت میں پولیس چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا، جہاں پولیس اہلکاروں نے دلیری سے لڑتے ہوئے پہلے ہی دن 15 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا، زیارت میں 6 جولائی سے دہشت گردوں کے خلاف مقابلہ چل رہا تھا، دہشتگردوں نے مزید 18 پولیس اہلکاروں کو شہید کردیا، زیارت حملے میں پہلے دن 9 اہلکار شہید ہوئے تھے، جس کے بعد اب شہید پولیس اہلکاروں کی کل تعداد 27 ہو گئی، خارجیوں کے خلاف آپریشن اب بھی مسلسل جاری ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مجموعی اعداو شمار بتاتے ہوئے کہا کہ چار دنوں کے دوران سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 54 دہشت گرد مارے گئے ہیں، دہشت گردوں کے ان حملوں اور مقابلوں میں وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے 27 پولیس اہلکار اور 11 فوجی اہلکار جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ سب ہندوستان کروا رہا ہے، دشمن ملک پاکستان اور بالخصوص بلوچستان کے امن کو نشانہ بنانے کے لیے فتنہ الخوارج کو استعمال کر رہا ہے، بلوچستان کے بہادر اور غیور عوام نے ان دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور وہ ملکی ترقی اور امن کے سفر میں فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

