ہنگورجہ: رپورٹ فیاض محسن سولنگی
سیٹھارجہ کے نواحی گائوں فقیر محمد رند کی رہائشی بیوہ خاتون امام زادی اپنی معصوم بچوں اور نند زرینہ کے ہمراہ سٹی پریس کلب ہنگورجہ پہنچیں، جہاں انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنے ساتھ پیش آنے والے مبینہ ظلم و زیادتی کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے گائوں کے مبینہ قبضہ مافیا کے سرغنہ خان محمد سہتو، اس کے بیٹے عمران سہتو اور عبدالحق سہتو دو نامعلوم مسلح افراد کے ہمراہ اسلحے کے زور پر زبردستی میرے گھر میں داخل ہوئے۔متاثرہ خاتون کے مطابق ملزمان نے گھر میں موجود نقد رقم، طلائی زیورات، گھریلو سامان اور دیگر قیمتی اشیا لوٹ لیں۔ بعد ازاں انہوں نے گھر کے کمروں، باڑ اور دیگر حصوں پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں گھر کو شدید نقصان پہنچا۔ انہوں نے بتایا کہ ملزمان فرار ہوتے وقت ہوائی فائرنگ کرتے رہے اور انہیں سنگین نتائج، جان سے مارنے اور گھر خالی کرنے کی دھمکیاں بھی دیتے رہے، جس کے باعث وہ اور ان کے معصوم بچے شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔بیوہ خاتون نے الزام عائد کیا کہ خان محمد سہتو اور اس کے بیٹے ان کی جائیداد اور گھر پر ناجائز قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ اسی مقصد کے لیے انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے، جبکہ ان کی معصوم بیٹیوں کو بھی خوفزدہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بے سہارا بیوہ ہونے کی وجہ سے بااثر افراد انہیں مسلسل دبا میں رکھے ہوئے ہیں اور انصاف کے تمام راستے بند کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید الزام لگایا کہ سیٹھارجہ تھانے میں این سی درج ہونے کے باوجود ایس ایچ او نے مبینہ طور پر ملزمان سے بھاری رشوت وصول کر رکھی ہے، جس کے باعث نہ صرف کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی بلکہ انہیں تھانے کے اندر بھی دھمکیاں دے کر خاموش رہنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔امام زادی نے کہا کہ اگر انہیں اور ان کے بچوں کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری نامزد ملزمان اور متعلقہ پولیس حکام پر عائد ہوگی۔ انہوں نے حکومت سندھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ قبضہ مافیا کے خلاف فوری اور غیرجانبدارانہ کارروائی کی جائے، لوٹا گیا سامان واپس دلایا جائے، گھر کو پہنچائے گئے نقصان کا ازالہ کیا جائے اور انہیں مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔آخر میں متاثرہ خاتون نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر، ایس ایس پی خیرپور، ڈپٹی کمشنر خیرپور اور دیگر اعلی حکام سے اپیل کی کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے شفاف تحقیقات کرائی جائیں، نامزد ملزمان کو فوری گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور ایک بے سہارا بیوہ کو انصاف فراہم کیا جائے۔

