لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبے میں ماحولیاتی تحفظ اور نوجوانوں کو عملی تربیت فراہم کرنے کے عزم کو دہراتے ہوئے "کلائمیٹ لیڈرشپ انٹرن شپ پروگرام” کے دوسرے مرحلے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت منتخب ہونے والے نوجوانوں کو نہ صرف عملی تربیت دی جائے گی بلکہ انہیں ماہانہ 60 ہزار روپے کا وظیفہ بھی ملے گا۔
پروگرام کا مقصد اور "کلائمیٹ وارئیرز” کی تیاری:
محکمہ تحفظِ ماحول و ماحولیاتی تبدیلی پنجاب کے مطابق، اس انٹرن شپ کا مرکزی مقصد نوجوان نسل کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی حکمت عملی، پالیسی سازی اور ماحولیاتی گورننس کے امور میں ماہر بنانا ہے۔ اس تین ماہ کے پروگرام کے دوران شرکاء "کلائمیٹ وارئیرز” کے طور پر تیار کیے جائیں گے، جو مستقبل میں پنجاب کے ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں معاون ثابت ہوں گے۔
تربیت کے اہم پہلو:
انٹرنز کو فیلڈ لرننگ کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے) کے دفاتر کے مطالعاتی دورے کرائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ماہرین کی زیرِ نگرانی کیپسٹن پروجیکٹس اور دیگر عملی سرگرمیوں کے ذریعے انہیں ماحولیات کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ خواتین کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے پروگرام میں 50 فیصد نشستیں طالبات کے لیے مختص کی گئی ہیں۔
اہلیت کا معیار:
پروگرام میں شمولیت کے لیے درج ذیل شرائط لازمی ہیں:
عمر: امیدوار کی عمر 20 سے 27 سال کے درمیان ہونی چاہیے۔
تعلیم: کم از کم بیچلر ڈگری، جس میں 75 فیصد نمبر یا 3.0 سی جی پی اے (4.0 میں سے) ہونا لازمی ہے۔
یہ پروگرام مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے گریجویٹس کے لیے یکساں کھلا ہے۔
درخواست جمع کرانے کا طریقہ:
خواہشمند امیدوار 18 جولائی 2026 تک ای پی اے (EPA) پنجاب کے آفیشل پورٹل پر جا کر اپنی آن لائن درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں۔ محکمہ تحفظِ ماحول نے نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھائیں اور پنجاب کو سرسبز اور موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ بنانے کے مشن میں اپنا کردار ادا کریں۔

