اسلام آباد: گروپ کیپٹن عاصم طارق کو شہید کرنے والے مرکزی ملزم سعد عباسی کو سخت سیکیورٹی میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔ عدالت نے ملزم کو پولیس کے حوالے کرتے ہوئے اس کا ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔
تفتیشی حکام نے ملزم کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج کے روبرو پیش کیا۔ پولیس کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ ملزم سے واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ، موٹر سائیکل اور دیگر اہم شواہد برآمد کیے جا چکے ہیں۔ تفتیش کاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ واقعے کے پیچھے موجود دیگر محرکات، نیٹ ورک اور سہولت کاروں تک پہنچنے کے لیے ملزم کا مزید جسمانی ریمانڈ درکار ہے تاکہ کیس کی کڑیاں ملائی جا سکیں۔
یاد رہے کہ ملزم سعد عباسی نے واردات کے بعد پولیس کو چکمہ دینے کے لیے لاہور تک سفر کیا تھا، تاہم پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیجز اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مدد سے اسے ٹریس کیا اور بالآخر اسلام آباد میں ایک فارمیسی سے گرفتار کیا تھا۔ اس گرفتاری میں بائیکیا ڈرائیور کی فراہم کردہ معلومات اور ملزم کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ٹیموں کا کردار انتہائی فیصلہ کن رہا۔
عدالت نے پولیس کی درخواست پر ملزم کو مزید تفتیش کے لیے ریمانڈ پر منتقل کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس ملزم کے سہولت کاروں اور اس تمام نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کے لیے پرعزم ہے جنہوں نے اس گھناؤنے فعل میں معاونت کی تھی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کے ہر پہلو کو میرٹ پر جانچا جا رہا ہے اور کسی بھی ملزم کو رعایت نہیں دی جائے گی۔
گروپ کیپٹن عاصم طارق قتل کیس؛ ملزم سعد عباسی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش، ریمانڈ منظور

