اسلام آباد: گروپ کیپٹن عاصم طارق کے المناک قتل کیس کی تفتیش میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ پولیس نے ملزم کی نقل و حرکت اور فرار کے راستوں کی نشاندہی کرنے والی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کر لی ہیں، جن سے واردات کے بعد ملزم کے اختیار کردہ راستوں اور اس کی حکمتِ عملی کا پول کھل گیا ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیجز میں کیا ہے؟
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق سامنے آنے والی فوٹیجز میں ملزم کا نیٹ ورک اور فرار کا پورا پلان واضح ہوتا ہے:
بس اڈے سے روانگی: ایک فوٹیج میں ملزم کو فیض آباد بس اڈے پر دیکھا جا سکتا ہے جہاں سے وہ انتہائی اطمینان کے ساتھ لاہور روانہ ہونے کے لیے بس میں سوار ہوتا ہے۔
مشکوک نقل و حرکت: ایک اور کلپ میں ملزم کو ایک نامعلوم خاتون کے ساتھ موٹر سائیکل پر سوار ہو کر جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے، جس سے اس کیس میں مزید کرداروں کے ملوث ہونے کا شبہ پیدا ہو گیا ہے۔
حلیہ تبدیل کرنے ک
ی کوشش: پولیس کو ملنے والی ایک اہم فوٹیج میں ملزم کو ایک مقامی دکان میں داخل ہو کر اپنے کپڑے تبدیل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لیے اپنا حلیہ بدلنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ فوٹیجز ملزم تک پہنچنے اور اس کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے میں "گیم چینجر” ثابت ہوئی ہیں۔ ملزم نے قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے انتہائی ہوشیاری سے راستے تبدیل کیے اور مختلف مقامات پر قیام کیا، تاہم سیف سٹی اور نجی کیمروں کے نیٹ ورک نے اس کے تمام "ڈیجیٹل فٹ پرنٹس” محفوظ کر لیے تھے۔
حکام کے مطابق، ملزم کی جانب سے اپنائے گئے ان ہتھکنڈوں کے باوجود پولیس کی جدید ٹیکنالوجی اور بروقت کارروائی نے اسے بالآخر قانون کی گرفت میں لا کھڑا کیا۔ فوٹیجز سے حاصل ہونے والے شواہد کو اب ملزم کے خلاف چالان کا مرکزی حصہ بنایا جا رہا ہے تاکہ اسے قرار واقعی سزا دلوائی جا سکے۔

