تہران: ایران کے دارالحکومت تہران میں پیر کے روز ایک تاریخی اور جذباتی منظر دیکھنے میں آیا، جب سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جسدِ خاکی کا جلوس نکالا گیا۔ تہران کی سڑکیں سوگوار ہجوم سے بھری ہوئی ہیں، جہاں لاکھوں ایرانی شہری اپنے قائد کو آخری الوداع کہنے کے لیے امڈ آئے ہیں۔

نمازِ جنازہ کے دوران تہران کا ماحول انتہائی سوگوار رہا، مگر اس غم کے ساتھ ساتھ عوام میں شدید غصہ بھی نمایاں تھا۔ نمازِ جنازہ کے شرکاء نے "مرگ بر امریکہ” اور "مرگ بر اسرائیل” کے فلک شگاف نعرے لگائے اور 28 فروری کے حملے کا فوری بدلہ لینے کا مطالبہ کیا۔ ہجوم میں ایسے جذباتی مناظر بھی دیکھنے میں آئے جہاں لوگ غم سے نڈھال تھے اور اپنے لیڈر کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے بے تاب نظر آئے۔
اس المناک وقت میں خامنہ ای کے تینوں بیٹے—مسعود، میثم اور مصطفیٰ—عوامی سطح پر ایک ساتھ سامنے آئے، جس نے ایرانی عوام کو اتحاد کا پیغام دیا۔ دوسری جانب، نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی جنازے میں عدم موجودگی پر قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ مبینہ طور پر فضائی حملے میں زخمی ہوئے تھے اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر روپوش ہیں۔
ایک طرف جہاں ایران غم میں ڈوبا ہوا ہے، وہیں سفارتی سطح پر بھی ہلچل جاری ہے۔ امریکہ کے ساتھ مذاکرات، جو آبنائے ہرمز کو کھولنے اور جوہری پروگرام پر مرکوز تھے، فی الحال اس سوگ کے دوران معطل کر دیے گئے ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور پاسدارانِ انقلاب کے اہم عہدیداران کی موجودگی اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاست اس مشکل وقت میں اپنی صفیں درست کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
جمعرات کے روز جب آیت اللہ علی خامنہ ای کو مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا، تو یہ نہ صرف ایک عظیم مذہبی رہنما کے سفر کا اختتام ہوگا بلکہ ایران کی تاریخ کے ایک انتہائی پرآشوب اور اہم باب کا بھی آخری صفحہ ہوگا۔




