پینسرہ (نمائندہ خصوصی)
معروف نوجوان سیاسی و سماجی شخصیت ممبر یوتھ پارلیمنٹ پاکستان سردار ملک فہد سرور نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پینسرہ اور اس کے گردونواح کی آبادی 2 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے لیکن یہاں نوجوانوں کے لیے کوئی سرکاری ڈرائیونگ ٹریننگ سینٹر موجود نہیں۔ جس کی وجہ سے نوجوان بغیر تربیت اور لائسنس کے گاڑیاں اور موٹر سائیکل چلانے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ "ٹریفک سیکٹر پینسرہ کی ماہ جون کی رپورٹ کے مطابق صرف ایک ماہ میں بغیر لائسنس 135 اور بغیر ہیلمٹ 898 چالان کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار خطرے کی گھنٹی ہیں۔”سردار ملک فہد سرور کا کہنا تھا کہ: پینسرہ مین روڈ، جھنگ روڈ اور گوجرہ روڈ پر روزانہ کی بنیاد پر ٹریفک کا دباؤ ہوتا ہے۔ غیر تربیت یافتہ ڈرائیورز جان لیوا حادثات کا سبب بن رہے ہیں۔ ہنر مند ڈرائیورز کی کمی کی وجہ سے مقامی نوجوان کمرشل لائسنس نہ ہونے کے باعث روزگار سے محروم ہیں۔ خلیجی ممالک جانے والے نوجوانوں کو بھی لائسنس کے لیے فیصل آباد کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ پرائیویٹ ڈرائیونگ سکول بھاری فیسیں وصول کرتے ہیں جو غریب طبقے کی پہنچ سے باہر ہے۔ممبر یوتھ پارلیمنٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا کہ:پینسرہ میں فوری طور پر "سرکاری ڈرائیونگ سکول” کا قیام عمل میں لایا جائے۔سکول میں مرد و خواتین کے لیے الگ بیچز اور خواتین انسٹرکٹرز تعینات کی جائیںلرننگ لائسنس سے ریگولر لائسنس تک کا عمل ایک ہی چھت تلے مکمل کیا جائے

