امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی سیکرٹری کا ایران پر الزام: ورلڈ کپ کے وفد میں ‘اسلامک ریولیوشنری گارڈ’ کے ارکان کو گھسانے کی کوشش
واشنگٹن: امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کے سیکرٹری مارک وین مولن (Markwayne Mullin) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکومت نے ورلڈ کپ فٹ بال میں اپنی ٹیم کے ساتھ ایسے افراد کو امریکا بھیجنے کی کوشش کی جن کے "براہِ راست روابط” ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) سے ہیں۔
فاکس نیوز کے پروگرام "سنڈے مارننگ فیوچرز” میں میزبان ماریہ بارٹیرومو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے، سیکرٹری مولن سے پوچھا گیا کہ کیا ایرانی پناہ گزین IRGC کے کہنے پر امریکا میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ یہ ایرانی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے دھوکے کے ہتھکنڈوں کی صرف ایک مثال ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا: "ہم یہ کھیل فیفا (FIFA) کے ساتھ بھی دیکھ رہے ہیں۔”
سیکرٹری نے انکشاف کیا کہ امریکا نے ایرانی ٹیم کے 100 سے زائد ارکان کے وفد میں سے نصف سے زیادہ کو میکسیکو کے شہر تیخوانا (Tijuana) میں قائم ان کے ٹریننگ بیس سے امریکا میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا، "ایران کی جانب سے کھیلی جانے والی یہ چالیں انہیں ایک ایسا حریف بناتی ہیں جس پر آپ بھروسہ نہیں کر سکتے۔”
جب ان سے سوال کیا گیا کہ اس صورتحال سے کیسے نمٹا جائے گا، تو مولن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "ہم جو کچھ بھی کریں گے اس کی تصدیق کی جائے گی، محض قیاس آرائی نہیں کی جائے گی۔” انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ ایرانی کھلاڑیوں کی مکمل جانچ پڑتال کی گئی ہے، تاہم انہوں نے یہ تصدیق کی کہ ایران کی فٹ بال فیڈریشن کے صدر کو امریکا میں داخلے سے روک دیا گیا ہے۔
یہ الزامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان تقریباً چار ماہ سے جاری فوجی تنازعہ ختم کرنے کے لیے مذاکرات کا ایک فریم ورک طے پا چکا ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں امن بات چیت کے باوجود، سیکرٹری مولن نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایرانی حکومت اب بھی امریکی سرزمین پر لوگوں کو نقصان پہنچانے کے طریقے تلاش کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: "ہم جس حکومت (رجیم) کے ساتھ ڈیل کر رہے ہیں، وہ 49 سالوں سے ’مرگ بر امریکا ‘ کے نعرے لگا رہی ہے۔” سیکرٹری نے صدر ٹرمپ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایران کے دہشت گرد "سلیپر سیلز” کو فعال کرنے کے "خواب” کو حقیقت بننے سے روکا ہے۔
امریکا نے ایران کی فٹ بال ٹیم کے وفد میں مبینہ ‘پاسدارانِ انقلاب’ کے ارکان کی موجودگی کا دعویٰ کر دیا

