ہنگورجا (رپورٹ فیاض محسن سولنگی)
زرعی شعبے کی ترقی اور بالخصوص کپاس کی فصل کے فروغ کے لیے قائم آفس آف دی ایگریکلچرل آفیسر، سندھ کاٹن ڈویلپمنٹ پروجیکٹ، تعلقہ آفس ہنگورجا گزشتہ کئی برسوں سے انتظامی غفلت، عملے کی مبینہ غیر حاضری اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث اپنے اصل مقاصد سے دور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ مقامی کاشتکاروں، سماجی رہنماؤں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری طور پر فعال ہونے کے باوجود دفتر عملی طور پر ویران ہو چکا ہے اور اس کی حالت کسی بھوت بنگلے سے کم نہیں۔مقامی افراد کے مطابق دفتر کے کمرے اکثر بند رہتے ہیں، فرنیچر گرد و غبار میں اٹا ہوا نظر آتا ہے جبکہ ریکارڈ روم اور دیگر حصوں میں بھی بدانتظامی نمایاں ہے۔ دفتر کے احاطے میں جھاڑ جھنکار اور جنگلی گھاس اُگ آنے کے باعث عمارت کسی سرکاری ادارے کے بجائے لاوارث مقام کا منظر پیش کرتی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ دفتر کے دروازوں پر تالے لگے ہونا یا ذمہ دار عملے کا موجود نہ ہونا معمول بن چکا ہے۔کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ سندھ کی معیشت میں کپاس کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے اور حکومت ہر سال زرعی شعبے کی ترقی کے لیے کروڑوں روپے خرچ کرتی ہے، لیکن ہنگورجا میں قائم سندھ کاٹن ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کا دفتر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دفتر میں تعینات افسران اور عملہ سرکاری خزانے سے ہر ماہ لاکھوں روپے تنخواہیں اور مراعات وصول کر رہے ہیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ دفتر میں ان کی موجودگی شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتی ہے۔مقامی کاشتکاروں کے مطابق جب وہ کپاس کی فصل کے حوالے سے فنی رہنمائی، معیاری بیج، زرعی ادویات کے درست استعمال، فصلوں کو لاحق بیماریوں یا دیگر زرعی مسائل کے حل کے لیے دفتر کا رخ کرتے ہیں تو انہیں شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ متعدد کاشتکار گھنٹوں دفتر کے باہر انتظار کرتے رہتے ہیں لیکن نہ تو ذمہ دار عملہ پہنچتا ہے اور نہ ہی ان کے مسائل سننے کے لیے کوئی موجود ہوتا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ سندھ کاٹن ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کا بنیادی مقصد کاشتکاروں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی، تحقیقی بنیادوں پر مشاورت، بہتر پیداوار کے لیے تربیت اور زرعی شعبے میں ترقی کے مواقع فراہم کرنا ہے، لیکن ہنگورجا میں دفتر کی موجودہ صورتحال کے باعث یہ تمام مقاصد بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ دفتر کی غیر فعالیت کے سبب علاقے کے سینکڑوں کاشتکار سرکاری سہولیات اور زرعی ماہرین کی رہنمائی سے محروم ہیں۔سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی سرکاری ادارے میں عملہ موجود نہ ہو اور عوامی مسائل حل نہ کیے جائیں تو ایسے ادارے کے وجود کا کوئی فائدہ نہیں رہ جاتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دفتر کی روزانہ حاضری کا ریکارڈ چیک کیا جائے، عملے کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے اور اگر غیر حاضری یا غفلت ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جائے۔
شہریوں اور کاشتکاروں نے وزیراعلیٰ سندھ، صوبائی وزیر زراعت، سیکریٹری زراعت سندھ، ڈائریکٹر سندھ کاٹن ڈویلپمنٹ پروجیکٹ، کمشنر سکھر اور ڈپٹی کمشنر خیرپور سے مطالبہ کیا ہے کہ ہنگورجا آفس کی صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے، عملے کی حاضری یقینی بنائی جائے، دفتر کو عوام کے لیے فعال بنایا جائے اور کاشتکاروں کو زرعی سہولیات کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

