ھنگورجہ رپورٹ فیاض محسن سولنگی
گاؤں میاں میر محمد پیرزادہ کے رہائشی عبداللطیف اپنی اہلیہ کے ہمراہ قرآن پاک اٹھا کر مبینہ طور پر اپنے بھائیوں کے ظلم و ستم کے خلاف سٹی پریس کلب ہنگورجہ پہنچ گئے، جہاں انہوں نے صحافیوں کے سامنے اپنی داد رسی کے لیے اپیل کی۔عبداللطیف نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بھائی عبدالستار، نثار، شاہد، الطاف، شہزادہ اور غلام مصطفیٰ ان کی غیر موجودگی میں گھر میں داخل ہوئے اور غسل خانے کے قریب ان کی اہلیہ کی ویڈیوز بنا کر انہیں بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ افراد لاٹھیاں اور کلہاڑیاں لے کر آئے اور ان کے معصوم بچوں کو بھی ہراساں کیا۔اس موقع پر عبداللطیف کی اہلیہ مسماۃ عابدہ نے روتے ہوئے بتایا کہ انہیں اور ان کی جوان بیٹیوں کو کئی برسوں سے بلاجواز تنگ کیا جا رہا ہے اور مبینہ طور پر ان کی غلط ویڈیوز بنا کر ہراساں کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دیور ان کی جان کے دشمن بن چکے ہیں اور ان کا اصل مقصد ان کی جائیداد اور رہائشی جگہ پر قبضہ کرنا ہے۔متاثرہ خاندان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس سلسلے میں ہنگورجہ تھانے میں این سی بھی درج کرائی ہے، تاہم پولیس مبینہ طور پر ملزمان کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کر رہی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس ملزمان کے ساتھ ملی ہوئی ہے جس کے باعث انہیں انصاف نہیں مل رہا۔عبداللطیف اور ان کی اہلیہ نے وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی خیرپور سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا نوٹس لیا جائے، ملزمان کو فوری گرفتار کرکے انہیں تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔

