ویب ڈیسک:جدید طبی تحقیق نے ایک انتہائی اہم انکشاف کیا ہے کہ دن کے اوقات میں غیر معمولی نیند کا آنا اور رات کو سونے میں دشواری کا سامنا کرنا محض تھکاوٹ نہیں، بلکہ یہ ہائی بلڈ پریشر (ہائی بلڈ پریشر) اور دل کی سنگین بیماریوں کے خطرے کی گھنٹی ہو سکتے ہیں۔
پین اسٹیٹ کالج آف میڈیسن (پنسلوانیا) کے سلیپ ریسرچ اینڈ ٹریٹمنٹ سینٹر کی جانب سے کی گئی ایک حالیہ تحقیق میں 1,700 سے زائد بالغ افراد کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے پتا چلا کہ جن افراد کو دن میں ضرورت سے زیادہ نیند آتی ہے، ان میں ہائی بلڈ پریشر کا امکان 52 فیصد زیادہ ہوتا ہے، جبکہ مستقبل میں اس مرض کے بڑھنے کا خطرہ 74 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
جو لوگ رات کو سونے میں 30 منٹ سے زیادہ وقت لیتے ہیں اور دن میں بھی نیند محسوس کرتے ہیں، ان میں ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ دوگنا، اور مستقبل میں اس کے مزید شدت اختیار کرنے کا خطرہ تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔
سلیپ ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر اور اس تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر الیگزینڈروس وگونٹزاس کا کہنا ہے کہ ایسے مریض جو نیند کے مسائل کا شکار ہیں، انہیں دل کی بیماری کے حوالے سے ایک الگ ‘ہائی رسک’ گروپ میں رکھا جانا چاہیے، اور معالجین کو ان کے معائنے کے دوران نیند کے معیار کو خصوصی اہمیت دینی چاہیے۔
میو کلینک کے ماہرین کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کو "خاموش قاتل” اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ بظاہر کوئی بڑی علامت ظاہر کیے بغیر جسم کے اندرونی اعضاء کو تباہ کرتا رہتا ہے۔ اس کے خطرناک اثرات میں درج ذیل شامل ہیں:
شریانوں کی تباہی: بلڈ پریشر شریانوں کو سخت اور غیر لچکدار بنا دیتا ہے، جس سے خون کی روانی متاثر ہوتی ہے۔
دل پر بوجھ: دل کے پٹھوں کا سخت اور موٹا ہو جانا، جو آگے چل کر دل کی ناکامی (Heart Failure) کا باعث بنتا ہے۔
فالج اور دماغی صحت: دماغی شریانوں کا پھٹنا یا رکاوٹ کا شکار ہونا فالج (Stroke) اور ڈیمنشیا جیسی بیماریوں کو دعوت دیتا ہے۔
اعضاء کی ناکامی: ہائی بلڈ پریشر گردوں کے فلٹرنگ سسٹم کو تباہ کر کے انہیں مستقل ناکارہ بنا سکتا ہے، اس کے علاوہ یہ آنکھوں کی بینائی پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
ماہرینِ صحت نے مشورہ دیا ہے کہ اگر آپ دن میں ضرورت سے زیادہ نیند یا رات کو سونے میں بار بار مشکل کا سامنا کر رہے ہیں، تو اسے ہرگز نظر انداز نہ کریں اور فوری طور پر کسی ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ یہ چھوٹی سی بیداری آپ کو مستقبل کی بڑی طبی پیچیدگیوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔

