اسلام آباد(حاجی شفیق کی رپورٹ ) وفاقی دارالحکومت میں جرائم کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کے لیے اسلام آباد پولیس کی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔ پولیس سربراہ علی ناصر رضوی کی قیادت میں جدید طرز کی متحرک فورس اور خصوصی ٹیمیں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مسلسل آپریشنز کر رہی ہیں، جس کے باعث شہری حلقوں میں سکیورٹی صورتحال بہتر ہونے کا تاثر ابھر رہا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق علی ناصر رضوی نے فورس کو ہر وقت الرٹ رہنے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف فوری ردعمل کی پالیسی اپنانے کی ہدایت دے رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف تھانوں کی پولیس اور خصوصی ٹیمیں دن رات کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ پولیس افسران اور اہلکار طویل اوقاتِ کار کے باوجود جرائم کے خاتمے کے لیے سرگرم عمل ہیں، جس سے فورس کے مورال میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ حال ہی میں تھانہ شالیمار کے علاقے می ڈکییت گینگ کے خلاف کارروائی اس حکمت عملی کی ایک مثال ہے۔ پولیس نے شہری سے لوٹ مار کی واردات میں ملوث خطرناک ملزمان افغانی نوراللہ اور بختیار علی زخمی حالت میں گرفتار ملزمان کا تعاقب کیا تو ملزمان نے فرار ہونے کی کوشش کے دوران پولیس پر فائرنگ کر دی۔ پولیس کی جوابی کارروائی کے بعد دونوں ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیے گئے جبکہ ان کے قبضے سے لوٹی گئی رقم، شناختی دستاویزات، اسلحہ اور واردات میں استعمال ہونے والا موٹر سائیکل برآمد کر لیا گیا۔ دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔ زرائع کا کہنا ہے کہ مؤثر نگرانی، بروقت کارروائیوں اور جدید پولیسنگ کے باعث اسلام آباد میں جرائم پیشہ عناصر کے لیے گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔ شہریوں کا بھی مطالبہ ہے کہ جرائم کے خلاف یہ مہم اسی شدت کے ساتھ جاری رکھی جائے تاکہ وفاقی دارالحکومت کو مزید محفوظ بنایا جا سکے۔
اسلام آباد پولیس کا مؤقف ہے کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور قانون شکن عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی