واشنگٹن: پینٹاگون نے ایک اہم اور غیر متوقع پیش رفت میں امریکی انڈو-پیسیفک کمانڈ کا نام تبدیل کر کے اسے دوبارہ اس کے تاریخی نام ‘یو ایس پیسیفک کمانڈ’ (USPACOM) میں بحال کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی 2018 میں شروع کی گئی ‘انڈو-پیسیفک’ کی تزویراتی (Strategic) اصطلاح کا آٹھ سالہ دور ختم ہو گیا ہے۔
پینٹاگون کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، اس نام کی بحالی کا مقصد کمانڈ کی 70 سالہ تاریخی میراث کا احترام کرنا ہے۔ یہ کمانڈ یکم جنوری 1947 کو صدر ہیری ٹرومین کے دور میں قائم کی گئی تھی اور سات دہائیوں سے زیادہ عرصے تک اسی نام سے جانی جاتی تھی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نام کی تبدیلی محض ایک علامتی اقدام ہے، اور کمانڈ کا مشن، علاقائی ذمہ داریاں اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر "آزاد اور کھلے خطے” کو برقرار رکھنے کا عزم بدستور برقرار رہے گا۔
یاد رہے کہ 2018 میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں، اس وقت کے وزیرِ دفاع جیمز میٹس نے اس کمانڈ کا نام بدل کر ‘انڈو-پیسیفک کمانڈ’ رکھا تھا۔ اس تبدیلی کا مقصد ہند اور بحرالکاہل کے سمندروں کے درمیان بڑھتے ہوئے تزویراتی تعلق اور خطے میں بدلتی ہوئی جیوسیاسی صورتحال کو تسلیم کرنا تھا۔ اس وقت جیمز میٹس نے بڑے دلچسپ انداز میں کہا تھا کہ یہ کمانڈ "بالی ووڈ سے ہالی ووڈ تک” پھیلی ہوئی ہے۔
اگرچہ پینٹاگون اسے محض تاریخی ورثے کی بحالی قرار دے رہا ہے، تاہم عالمی امور کے ماہرین اس تبدیلی کو گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں۔
بہت سے تجزیہ کار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا یہ تبدیلی ہند-بحرالکاہل خطے پر امریکا کی توجہ کم کرنے کا اشارہ ہے یا پھر یہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ماضی کی پالیسیوں کو پلٹنے کا ایک حصہ ہے۔ فی الحال، امریکی محکمہ دفاع نے ان تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس خطے میں امریکی حکمتِ عملی اور پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
اب بھارت خطے کا چودھری نہیں ؟پینٹاگون کا بڑا فیصلہ: ‘انڈو-پیسیفک کمانڈ’ کا نام بدل کر دوبارہ ‘پیسیفک کمانڈ’ کر دیا گیا

