نارتھ ڈکوٹا، :قدرت کا ایک ایسا کھیل جس نے دو خاندانوں کی زندگیاں بدل کر رکھ دیں۔ 38 سال قبل نارتھ ڈکوٹا کے ایک ہسپتال میں پیدا ہونے والے دو بچے غلطی سے ایک دوسرے کے والدین کے گھر پہنچ گئے، اور اس خوفناک غلطی کا انکشاف تین دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد ایک عام سے ‘ڈی این اے’ ٹیسٹ کے ذریعے ہوا۔
کائل بائلن (Kyle Bylin) نے کرسمس کے موقع پر گھر میں ایک ڈی این اے کٹ کے ذریعے اپنا ٹیسٹ کروایا، جس کے نتائج نے اسے ہلا کر رکھ دیا۔ جب اس نے اپنی حیاتیاتی (biological) خالہ کو تلاش کیا تو معلوم ہوا کہ اس کا حیاتیاتی رشتہ جیریمی موریسن (Jeremy Morrison) سے جڑتا ہے۔ جب جیریمی نے اپنا ٹیسٹ کروایا تو یہ حقیقت ناقابلِ تردید ثابت ہوئی کہ دونوں بچے 26 جنوری 1988 کو ‘یونٹی میڈیکل سینٹر’ میں پیدا ہوئے تھے اور ہسپتال کے عملے کی غفلت کے باعث غلط والدین کو دے دیے گئے تھے۔
متاثرہ خاندانوں نے ہسپتال کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ کائل بائلن کے پاس اب بھی وہ ہسپتال کا بریسلیٹ موجود ہے جس پر اس کا غلط نام درج تھا۔ دوسری جانب ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ عملہ ذمہ دار ہے، کیونکہ تقریباً چار دہائیاں گزرنے کے بعد اس وقت کا تمام طبی اور اسٹاف ریکارڈ ضائع ہو چکا ہے اور کوئی بھی پرانا ملازم اب وہاں موجود نہیں ہے۔
والدین اور ان افراد پر اس انکشاف نے قیامت ڈھا دی ہے۔ کائل کی پرورش کرنے والی ایولن نیوٹن کہتی ہیں، "کائل ہمیشہ میرا بیٹا رہے گا، لیکن مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے مجھ سے میرے اصل بیٹے کے ساتھ گزارنے والی زندگی چھین لی ہو۔ پہلی بار چلنا، اسکول جانا، شادی، کیا ان 38 سالوں کا ازالہ ممکن ہے؟”
جیریمی موریسن کا کہنا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ 38 سال کی محبت بھری یادوں کو نہیں مٹا سکتا۔ وہ اپنے پرورش کرنے والے والدین کو ہی اپنا اصل والدین مانتے ہیں، لیکن یہ حقیقت اب بھی ایک کسک بن کر دل میں موجود ہے کہ وہ اپنے حیاتیاتی بھائیوں کے ساتھ کھیتوں میں کام کرنے کے بجائے کہیں اور پرورش پا رہا تھا۔
متاثرہ خاندانوں کے وکیل کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک سال تک ہسپتال کے ساتھ تصفیے کی کوشش کی، لیکن اب قانونی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کیا گیا ہے تاکہ غفلت اور طبی بددیانتی کا انصاف ہو سکے۔ ماہرینِ طب کا کہنا ہے کہ جدید الیکٹرانک ریکارڈ کے دور میں اب ایسی غلطیاں تقریباً ناممکن ہیں، لیکن اس واقعے نے پرانے دور کے ہسپتالوں کے غیر محفوظ نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
DNAٹیسٹ کی بدولت38 سال بعد سچائی بے نقاب: اسپتال میں بدلنے والے بچے اصل والدین سے جاملے

