میلسی (تحصیل رپورٹر سجاد سحر )
وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے بجٹ 2026-27 پر مختلف شعبہہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے اپنے اپنے طبقات کی نمائندگی کرتے ہوئے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ بیشتر آراء میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بجٹ میں مالی نظم و ضبط اور معیشت کی بہتری کی کوشش کی گئی ہے، تاہم عام آدمی، تنخواہ دار طبقے، تاجروں، کسانوں اور مزدوروں کے لیے مزید ریلیف کی ضرورت ہے۔صدر مستحکم تنظیم تاجران بلال نظامی نے کہا کہ بجٹ میں کاروباری سرگرمیوں کو جاری رکھنے اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے کی کوشش کی گئی ہے، تاہم چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے لیے ٹیکس نظام کو مزید آسان بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے اس پر اضافی بوجھ ڈالنے سے گریز کیا جائے۔تاجر رہنما شیخ غلام مصطفے نے بجٹ کو موجودہ معاشی حالات کے تناظر میں ایک متوازن اور ذمہ دارانہ بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے محدود وسائل کے باوجود عوامی فلاح، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی استحکام کو مدنظر رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بجٹ ملک کو معاشی خود کفالت کی جانب لے جانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ جنرل سیکرٹری رانا عرفان احمد نے کہا کہ متوسط طبقہ مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے، اس لیے حکومت کو اس طبقے کے لیے خصوصی ریلیف پیکج متعارف کرانا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ عام شہری بجلی، گیس اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کے منتظر ہیں۔بشیر چوہان نے بجٹ کا قانونی اور معاشی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس نیٹ میں توسیع ایک مثبت قدم ہے، تاہم ٹیکس قوانین کے نفاذ میں شفافیت اور مساوات کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے تاکہ تمام طبقات کے ساتھ یکساں سلوک ہو اور کسی ایک طبقے پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑے۔بانی سٹی پریس کلب رجسٹرڈ عیدگاہ روڈ میلسی نے کہا کہ بجٹ کی کامیابی کا اصل پیمانہ اس کے عملی نتائج ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے مسائل سے نجات چاہتے ہیں اور حکومت کو بجٹ اہداف کے ساتھ عوامی توقعات کو بھی پورا کرنا ہوگا۔ الطاف ساگر سجاد سحر ڈاکٹر ناصر رضا مشترکہ بیان میں کہا کہ مزدور طبقہ بجٹ سے زیادہ توقعات وابستہ کیے ہوئے تھا، تاہم اجرتوں اور سماجی تحفظ کے حوالے سے خاطر خواہ اقدامات نظر نہیں آتے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کم از کم اجرت میں اضافہ اور محنت کش طبقے کے لیے خصوصی مراعات دی جائیں۔غیاث الدین سرورنے کہا کہ فارماسیوٹیکل اور میڈیکل کاروبار سے وابستہ افراد توقع رکھتے ہیں کہ ادویات کی دستیابی اور قیمتوں کے استحکام کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔۔

