ہنگورجہ (رپورٹ: فیاض محسن سولنگی)
تعلقہ صو بھوڈیرو کے اہم سرکاری طبی ادارے رورل ہیلتھ سینٹر ہنگورجہ کے بارے میں شہریوں، سماجی رہنماؤں اور مریضوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اسپتال کئی برسوں سے مبینہ کرپشن، بدانتظامی اور غفلت کا شکار ہے، جس کے باعث روزانہ علاج کے لیے آنے والے سیکڑوں مریض بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہیں۔مقامی رہائشیوں کے مطابق حکومت ہر سال محکمہ صحت کے لیے کروڑوں روپے مختص کرتی ہے، تاہم اس کے باوجود رورل ہیلتھ سینٹر ہنگورجہ کی صورتحال دن بدن ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ اسپتال میں ادویات کی قلت، صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات، طبی آلات کی کمی، وارڈز کی خستہ حالی اور مریضوں کے لیے بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی عوام کے لیے شدید پریشانی کا سبب بنی ہوئی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ غریب اور مستحق مریضوں کو اکثر ادویات اسپتال سے فراہم نہیں کی جاتیں، جس کے باعث انہیں نجی میڈیکل اسٹورز سے مہنگی دوائیں خریدنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایمرجنسی کی صورتحال میں بھی مناسب طبی سہولیات نہ ہونے کے باعث مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جاتی ہیں اور بعض اوقات مریض بروقت علاج نہ ملنے کے سبب جان کی بازی بھی ہار جاتے ہیں۔مریضوں کے ورثاء کے مطابق صفائی کے ناقص انتظامات کے باعث مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔ شدید گرمی کے موسم میں بجلی اور ٹھنڈے پانی کی مناسب سہولت نہ ہونے سے مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
شہریوں، سیاسی و سماجی تنظیموں، وکلاء، اساتذہ اور صحافیوں نے وزیراعلیٰ سندھ، صوبائی وزیر صحت، سیکریٹری صحت، کمشنر سکھر، ڈپٹی کمشنر خیرپور اور ڈی ایچ او خیرپور سے مطالبہ کیا ہے کہ رورل ہیلتھ سینٹر ہنگورجہ میں مبینہ کرپشن، بدانتظامی اور غفلت کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں۔


