نیویارک/لندن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے کے ممکنہ منصوبے کو منسوخ کرنے کے فیصلے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس پیش رفت نے مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کو کافی حد تک کم کر دیا ہے۔
حالیہ سیاسی کشیدگی کے بعد پیدا ہونے والے تناؤ میں نرمی آتے ہی عالمی منڈی میں تیل کے نرخوں میں مندرجہ ذیل کمی دیکھی گئی:
برینٹ خام تیل (Brent Crude): قیمت میں 1.21 ڈالر (1.3 فیصد) کی کمی کے بعد سودے 89.17 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI): قیمت 1.23 ڈالر (1.4 فیصد) گر کر 86.48 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق، پورے ہفتے کے دوران تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کا رجحان رہا۔ ہفتہ وار بنیادوں پر برینٹ خام تیل کی قیمت میں مجموعی طور پر 4.2 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں 4.4 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں عارضی کمی کے باعث سرمایہ کاروں نے سکون کا سانس لیا ہے، جس کا براہِ راست اثر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں آئندہ کی صورتحال ہی طے کرے گی کہ تیل کی قیمتوں کا مستقبل کا رخ کیا ہوگا۔

