قاضی احمد رپورٹ: سائیں بخش لاکھو
قاضی احمد کی نبی بخش کالونی کے رہائشی مختیار مہر نے اپنی بہن مسکان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی اہلیہ زبیدہ کھوسو کو مبینہ طور پر زبردستی اغوا کر لیا گیا ہے۔مختیار مہر کے مطابق چند سال قبل انہوں نے نوروجی کی رہائشی، طلاق یافتہ اور چار بچوں کی والدہ زبیدہ کھوسو سے باہمی رضامندی کے ساتھ شادی کی تھی اور دونوں خوشگوار زندگی گزار رہے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آج ان کی غیر موجودگی میں زبیدہ کھوسو کے بھائی نظام کھوسو اپنے ساتھیوں اصغر کھوسو، انور کھوسو، چنیسر کھوسو، ندیم کھوسو، پوڑو کھوسو، احسان کھوسو اور مسمات صغریٰ کے ہمراہ ان کے گھر میں داخل ہوئے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ افراد نے گھر میں توڑ پھوڑ کی، خواتین اور بچوں پر تشدد کیا، جبکہ ان کی اہلیہ زبیدہ کھوسو نے مزاحمت کی تو انہیں بھی مبینہ طور پر شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بعد ازاں زبیدہ کھوسو کو بے ہوشی کی حالت میں زبردستی اپنے ساتھ لے جایا گیا۔مختیار مہر کا کہنا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ ان کی اہلیہ کو کوئی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کی رپورٹ قاضی احمد تھانے میں درج کرا دی گئی ہے۔پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے ایس ایس پی شہید بینظیر آباد، ایس ایچ او قاضی احمد اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ ان کی اہلیہ کو فوری بازیاب کرا کے انہیں انصاف اور تحفظ فراہم کیا جائے۔واضح رہے کہ مذکورہ الزامات ایک فریق کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں، جبکہ دوسرے فریق کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آ سکا۔

