لاہور: پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے صوبے کی پانچ بڑی پبلک میڈیکل یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز (VCs) کے انتخاب کا جاری عمل اچانک منسوخ کر دیا ہے اور ان عہدوں کے لیے امیدواروں کی عمر کی بالائی حد 65 برس سے بڑھا کر 75 برس کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ اس حکومتی اقدام نے طبی حلقوں میں شدید تحفظات کو جنم دیا ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ اشتہار پر 46 امیدواروں نے درخواستیں جمع کروائی تھیں، جن کی جانچ پڑتال کا عمل شروع ہونا تھا۔ تاہم، حکومت نے اچانک اس عمل کو روک کر عمر کی حد میں 10 سال کی رعایت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ تبدیلیاں ایک آرڈیننس کے ذریعے لانے کی تیاری کی جا رہی ہے تاکہ اسے قانونی تحفظ مل سکے۔
کن یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے عہدے خالی ہو رہے ہیں؟
ان پانچ طبی جامعات کے موجودہ وائس چانسلرز کی مدت جولائی 2026 میں ختم ہو رہی ہے، جن میں شامل ہیں:
پروفیسر احسن وحید راٹھور (UHS)
پروفیسر محمود ایاز (KEMU)
پروفیسر خالد مسعود گوندل (FMU)
ڈاکٹر محمد عمر (RMU)
پروفیسر ظفر چوہدری (FMU)
ان میں سے تین وائس چانسلرز تیسری مدت جبکہ دو دوسری مدت کے خواہشمند ہیں۔
خدشات اور الزامات
پرو پاکستانی کی رپورٹ کے مطابق اس تبدیلی پر طبی برادری میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عمر کی حد بڑھانے کا مقصد ریٹائرڈ یا ریٹائرمنٹ کے قریب موجود سینئر عہدیداروں کو نوازنا ہے، تاکہ وہ دوبارہ ان عہدوں پر فائز ہو سکیں۔ یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ تبدیلی مبینہ طور پر شمالی پنجاب کے ایک بااثر امیدوار کو تیسری بار وائس چانسلر بنوانے کے لیے کی جا رہی ہے۔
حکومت کا موقف
صوبائی وزیر برائے سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر خواجہ سلمان رفیق نے ان خبروں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمر کی حد بڑھانے کا مقصد تجربہ کار طبی ماہرین کی خدمات سے فائدہ اٹھانا ہے۔ انہوں نے کسی بھی فرد یا گروپ کو فائدہ پہنچانے کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا مقصد میڈیکل ایجوکیشن اور ریسرچ کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔
اس معاملے پر اب قانونی اور انتظامی سطح پر بحث شروع ہو چکی ہے، جبکہ امیدواروں کی ایک بڑی تعداد حکومتی فیصلے کے منتظر ہے۔

