تہران/انقرہ:2026 فیفا ورلڈ کپ کے انعقاد میں کچھ ہی دن باقی ہیں، لیکن ایران کی قومی فٹ بال ٹیم کو میدان میں اترنے سے پہلے سفارتی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ ‘ورزش 3’ کی رپورٹ کے مطابق، جہاں ایرانی ٹیم کو میکسیکو کے لیے ویزے مل چکے ہیں، وہیں امریکہ میں ہونے والے گروپ میچوں کے لیے مطلوبہ امریکی ویزے تاحال جاری نہیں کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے وفد کے ویزا دستاویزات انقرہ میں موجود ایرانی سفارت خانے کو موصول ہو چکے ہیں۔ اس سے قبل گزشتہ ماہ ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی تھی کہ ٹیم کے ارکان نے انقرہ میں ویزا انٹرویوز کے لیے ملاقاتیں کی تھیں۔ ویزوں کے حصول میں تاخیر کی وجہ سے ہی ایرانی فیڈریشن کو اپنی ٹیم کا تربیتی کیمپ امریکی شہر ٹوسان، ایریزونا سے منتقل کر کے میکسیکو کے شہر تیجوانا کرنا پڑا۔
اس معاملے میں نیا موڑ تب آیا جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کے روز ایک بیان میں واضح کیا کہ امریکہ اس بات کے لیے پرعزم ہے کہ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) سے وابستہ افراد کو ورلڈ کپ کے لیے ایرانی وفد کا حصہ بن کر امریکی سرزمین پر داخل ہونے سے روکا جائے۔ یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ سکیورٹی خدشات ویزوں کے اجرا میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
ایران کو ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے میں نیوزی لینڈ، بیلجیئم اور مصر جیسی مضبوط ٹیموں کا سامنا کرنا ہے، اور ان کے میچز 16، 21 اور 27 جون کو شیڈول ہیں۔ اس وقت ایرانی ٹیم ترکی کے شہر انطالیہ میں اپنا تربیتی کیمپ جاری رکھے ہوئے ہے، جہاں انہوں نے گزشتہ جمعہ کو گیمبیا کو 3-1 سے شکست دی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیم کا تربیتی کیمپ جمعرات کو مالی (Mali) کے خلاف میچ کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا، جس کے بعد کھلاڑیوں کو میکسیکو روانہ ہونا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ورلڈ کپ شروع ہونے سے قبل ایرانی کھلاڑیوں کو امریکی ویزے مل پاتے ہیں یا یہ معاملہ مزید طوالت اختیار کر جائے گا۔
ورلڈ کپ میں شرکت خطرے میں: ایرانی فٹ بال ٹیم کے امریکی ویزوں کا مسئلہ تاحال حل نہ ہو سکا

