ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی قطر کے امیر اور اعلیٰ حکام سے مذاکرات کے لیے دوحہ پہنچ گئے ہیں۔ جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ بامعنی اور شاندار معاہدہ ہوگا یا بالکل نہیں ہوگا۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران کے دونوں سینئر عہدیدار قطر کے وزیرِاعظم سے اہم علاقائی اور سفارتی امور پر بات چیت کریں گے۔رائٹرز کے مطابق مذاکرات میں خاص طور پر آبنائے ہرمز اور ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر سے متعلق امور زیرِ بحث آئیں گے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے اس سے قبل یہ خبر دی تھی کہ ایران کے مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتی بھی ’منجمد اثاثوں پر سے پابندیوں کے خاتمے اور اقتصادی مذاکراتی کمیشن‘ کے سلسلے میں قطر پہنچے ہیں۔
گزشتہ ہفتے قطر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی ایران کا دورہ کر چکا ہے۔واضح رہے کہ امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات میں ایران کے اہم مطالبات میں اس کے منجمد مالی وسائل کی بحالی بھی شامل ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ جاری مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کا دفاع کیا ہے۔صدر ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات پر تنقید کرنے والے خواہ وہ ڈیموکریٹ ہوں یا ریپبلکن کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھیں ’احمق‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ ’ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔صدر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ’یا تو شاندار اور بامعنی ہوگا یا پھر سرے سے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔انھوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ان سیاستدانوں کو ’تفرقہ پھیلانے والے‘ افراد قرار دیا اور کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جو ’میری ہر بڑی کامیابی پر مسلسل تنقید کرتے رہتے ہیں۔‘
گزشتہ چند روز کے دوران امریکی کانگریس کے متعدد ڈیموکریٹ اور ریپبلکن ارکان نے ٹرمپ انتظامیہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان میں ریپبلکن سینیٹر ٹام ٹِلس بھی شامل ہیں، جن کا ذکر صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں کیا ہے۔امریکا کے کئی سابق عہدیدار، جن میں سابق وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو اور سابق قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن شامل ہیں، بھی اس ممکنہ معاہدے پر سخت تنقید کرنے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔
ایران کے چیف مذاکرات کار قالیباف،وزیرخارجہ کی دوحہ آمد، ایران سے معاہدہ بامعنی ہوگا یا نہیں ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

