واشنگٹن: امریکی فوج نے پیر کو کہا کہ اس نے جنوبی ایران میں اپنے دفاع میں حملے کیے ہیں۔فوج کے مطابق ایران کے میزائل لانچنگ سائٹس اور بارودی سرنگیں رکھنے والی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر مذاکرات کے مثبت سمت میں آگے بڑھنے کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حملے "ہمارے فوجیوں کو ایرانی فورسز کی طرف سے لاحق خطرات سے بچانے کے لیے کیے گئے”، لیکن فوج "جاری جنگ بندی کے دوران تحمل کا مظاہرہ کر رہی تھی۔”
ہاکنز نے کہا کہ حملوں کا ہدف بندر عباس کے قریب ایک علاقہ تھا۔ یہ جنوب میں ایک ساحلی شہر ہے اور امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق آبنائے ہرمز پر ایرانی بحریہ کا ایک اڈا بھی اسی شہر میں ہے۔
An hour after the U.S. struck an Iranian naval vessel, Trump’s earlier claim that Iran’s navy was “completely destroyed” is already looking questionable.
Now Iran is retaliating.
This ceasefire looks less like peace, and more like a pause before the next escalation. pic.twitter.com/B9JD31X5Gs
— Ebrahim Zolfaghari (@Irantimes01) May 26, 2026
ایرانی سرکاری میڈیا نے اس سے قبل اطلاع دی تھی کہ بندر عباس میں دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کے بعد مقامی حکام تحقیقات کر رہے تھے۔
دوسری طرف پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈئر جنرل ابراہیم ذوالفقاری کی ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی ذرائع کے مطابق اسپیکر قالیباف نے کہا ہے کہ حملے کا جواب رستے میں ہے اور حملے کے بعد ڈیل ختم ہے۔
US forces struck two IRGC boats allegedly laying mines in the Strait of Hormuz, along with missile sites in Bandar Abbas.
🇮🇷 An Iranian source close to Speaker Ghalibaf says a “decisive response” is underway: “The deal is off.” pic.twitter.com/1EBUXZSlHF
— Ebrahim Zolfaghari (@Irantimes01) May 26, 2026

