تحریر: ڈاکٹر داؤد
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

مویشی منڈیوں میں سب سے عام دھوکہ جانوروں کو مصنوعی طریقوں سے زیادہ صحت مند، بھاری یا خوبصورت ظاہر کرنا ہے۔ بعض غیر ذمہ دار تاجر جانوروں کو ضرورت سے زیادہ پانی پلانے، نمکول، سٹیرائیڈز یا دیگر انجیکشن لگانے کا سہارا لیتے ہیں تاکہ ان کا وزن اور جسمانی حجم وقتی طور پر بڑھا ہوا محسوس ہو۔ خریدار پہلی نظر میں جانور کو طاقتور اور صحت مند سمجھتا ہے، لیکن چند دن بعد وہی جانور کمزور، پانی کی کمی کا شکار یا پہلے سے چھوٹا دکھائی دینے لگتا ہے۔ ایسے غیر اخلاقی طریقے نہ صرف مالی دھوکہ دہی ہیں بلکہ جانوروں کی فلاح اور صحتِ عامہ کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ بین الاقوامی ویٹرنری ادارے مویشیوں میں غیر ضروری ادویات اور کیمیکلز کے استعمال سے مسلسل خبردار کرتے رہے ہیں کیونکہ یہ بیماریاں چھپا سکتے ہیں اور جانوروں پر شدید جسمانی دباؤ ڈالتے ہیں۔
قربانی کے جانوروں کی عمر کے بارے میں غلط معلومات دینا بھی ایک عام مسئلہ ہے۔ چونکہ اسلامی اصولوں کے مطابق قربانی کے جانور کی ایک مخصوص کم از کم عمر ہونا ضروری ہے، اس لیے بعض بیوپاری دانستہ طور پر کم عمر جانوروں کو زیادہ عمر کا ظاہر کرتے ہیں تاکہ زیادہ قیمت وصول کی جا سکے۔ بہت سے خریدار مویشیوں کی پہچان سے واقف نہیں ہوتے اور صرف زبانی دعوؤں پر اعتماد کر لیتے ہیں، جبکہ دانتوں کی ساخت، جسمانی پختگی اور نسل کی خصوصیات جانور کی اصل عمر کے اہم اشارے ہوتے ہیں۔ معلومات کی کمی کی وجہ سے ایسے دھوکے ہر سال جاری رہتے ہیں۔
وزن بڑھا چڑھا کر بیان کرنا بھی منڈیوں کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اکثر مویشی منڈیوں میں معیاری وزن کا نظام موجود نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے خریدار صرف ظاہری اندازے پر انحصار کرتے ہیں۔ بعض تاجر جانور کا وزن درجنوں بلکہ بعض اوقات سینکڑوں کلوگرام زیادہ بتاتے ہیں تاکہ غیر حقیقی قیمت وصول کی جا سکے۔ پہلی مرتبہ قربانی کا جانور خریدنے والے افراد جذباتی دباؤ میں جلد فیصلہ کر لیتے ہیں اور مکمل جانچ پڑتال نہیں کرتے۔ بعض منظم گروہ مصنوعی بولی اور فرضی خریداروں کے ذریعے یہ تاثر پیدا کرتے ہیں کہ جانور کی مانگ بہت زیادہ ہے، جس سے اصل قیمت سے کہیں زیادہ رقم وصول کی جاتی ہے۔
مویشی منڈیوں میں دلالوں اور کمیشن ایجنٹوں کا کردار بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ بعض اوقات خریدار ایسے افراد سے گفتگو کر رہا ہوتا ہے جو دراصل ایک ہی گروہ کا حصہ ہوتے ہیں اور جان بوجھ کر مقابلہ بازی کا ماحول پیدا کرتے ہیں تاکہ خریدار پر فوری خریداری کا دباؤ ڈالا جا سکے۔ مذہبی جذبات کے ماحول میں یہ نفسیاتی دباؤ زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے اور لوگ حقیقت سے زیادہ قیمت ادا کر دیتے ہیں۔ بعض جگہوں پر جانوروں کی مصنوعی قلت یا “ابھی بکنے والا ہے” جیسے جملوں کے ذریعے خریدار کو جلد بازی پر مجبور کیا جاتا ہے۔
نقل و حمل سے متعلق دھوکہ دہی بھی عام ہوتی جا رہی ہے۔ بعض فروخت کنندگان مفت ڈیلیوری کا وعدہ کرتے ہیں لیکن بعد میں اضافی اخراجات طلب کرتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ راستے میں خریدا گیا جانور تبدیل کرکے کم معیار کا ملتا جلتا جانور فراہم کر دیتے ہیں۔ اس لیے خریداروں کو چاہیے کہ جانور کی تصاویر، رنگ، سینگوں کی ساخت، کانوں کے نشانات اور دیگر نمایاں خصوصیات محفوظ کر لیں تاکہ کسی تنازعے کی صورت میں ثبوت موجود ہو۔
صحت کے حوالے سے بھی احتیاط ضروری ہے۔ بعض بیمار جانوروں کو وقتی ادویات دے کر ان کی بیماری چھپا دی جاتی ہے۔ خریداروں کو چاہیے کہ سانس کی خرابی، ناک سے مواد خارج ہونا، ضرورت سے زیادہ رال آنا، آنکھوں کی سرخی، زخم، جلدی بیماریاں، لنگڑاہٹ یا غیر معمولی کمزوری جیسی علامات پر توجہ دیں۔ ویٹرنری معائنہ نہ صرف مالی نقصان سے بچا سکتا ہے بلکہ متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ صحتِ عامہ کے ماہرین عرصہ دراز سے اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ محفوظ اور صحت مند جانور کا انتخاب بیماریوں سے بچاؤ اور خوراک کی حفاظت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
بچوں اور بزرگ افراد کی قربانی کے جانوروں سے جذباتی وابستگی کو بھی بعض بیوپاری اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جانور کی نسل، خوبصورتی یا نایاب ہونے کے بارے میں مبالغہ آرائی کرکے خریداروں کو جذباتی طور پر متاثر کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں لوگ غیر ضروری طور پر بہت زیادہ قیمت ادا کر دیتے ہیں۔ ذمہ دار خریداری کا تقاضا ہے کہ انسان جلد بازی اور جذباتیت کے بجائے صبر، تحقیق اور تصدیق سے کام لے۔
اسلام میں دھوکہ دہی، استحصال اور بے ایمانی کو سختی سے ناپسند کیا گیا ہے۔ دیانت داری، شفاف تجارت، انصاف اور جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک اسلامی تعلیمات کا بنیادی حصہ ہیں۔ قربانی کی اصل روح اخلاص، ایثار، سماجی ذمہ داری اور انسانیت ہے، نہ کہ مذہبی جذبات کو مالی فائدے کے لیے استعمال کرنا۔ تاہم ذمہ داری صرف خریدار اور فروخت کنندہ پر عائد نہیں ہوتی بلکہ متعلقہ اداروں کو بھی مویشی منڈیوں میں رجسٹرڈ فروخت کنندگان، معیاری وزن کے نظام، ویٹرنری چیک پوائنٹس، شکایتی مراکز اور نگرانی کے مؤثر نظام جیسے اقدامات نافذ کرنے چاہییں۔
آخرکار، آگاہی ہی سب سے مضبوط دفاع ہے۔ ایک باخبر، محتاط اور ذمہ دار خریدار دھوکہ دہی کا شکار ہونے سے کافی حد تک محفوظ رہتا ہے۔ عیدالاضحیٰ کو استحصال اور فراڈ کے بجائے ایمان، سخاوت، قربانی اور سماجی یکجہتی کی علامت بننا چاہیے۔ اخلاقی تجارت، مؤثر نگرانی اور عوامی شعور ہی قربانی کی حقیقی روح اور معاشرتی اقدار کے تحفظ کی ضمانت ہیں
قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت اور منڈیوں میں بڑھتے ہوئے فراڈ، عوامی آگاہی کے لیے ایک خصوصی کالم

