Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      ”کاکروچ کبھی مرتے نہیں“ بھارت میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کا ایکس اکاؤنٹ بلاک، بانی کا نیا اکاؤنٹ "کاکروچ از بیک” متحرک

      ایران جنگ میں امریکا کو بے تحاشہ نقصان، لڑاکا طیاروں سمیت 42 طیارے اور MQ-9 ریپر ڈرون کھو دیے، کانگریشنل ریسرچ سروس رپورٹ

      نیسلے کے لیے نئی مشکل: شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ میں زہریلے مادے کا انکشاف

      کراچی میں 82 منزلہ 941 فٹ بلند ” برج قائد“ تعمیر کرنیکا فیصلہ

      مودی کا ‘مدر آف آل ڈیلز’ کا اعلان، نیدرلینڈز اور ٹاٹا کے مابین تاریخی سیمی کنڈکٹر معاہدہ

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

      خارگ جزیرے پر ممکنہ امریکی حملہ ، لیگو ویڈیو جاری

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    پاکستان کا آئی ایم ایف یا آئی ایم ایف کا پاکستان؟

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر: ڈاکٹر داؤد
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
    پاکستان کا معاشی بحران اب صرف آئی ایم ایف کے قرضوں، ٹیکسوں یا افراطِ زر تک محدود نہیں رہا۔ یہ اب بجلی کے بلوں، ایندھن کی قیمتوں، اور یہاں تک کہ شہریوں کو شمسی توانائی کے ذریعے مہنگے بجلی کے نظام سے نکلنے سے روکنے کی کوششوں کی صورت میں گھروں تک پہنچ چکا ہے۔

    کئی دہائیوں سے پاکستان بیل آؤٹ پیکجوں کے لیے بار بار بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا رخ کرتا رہا ہے۔ ہر پروگرام اپنے ساتھ سخت شرائط لاتا ہے: زیادہ ٹیکس، سبسڈی میں کمی، بجلی کے بڑھتے نرخ، اور پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ۔ حکومتیں ان اقدامات کو ضروری معاشی اصلاحات قرار دیتی ہیں، مگر عام شہری محسوس کرتے ہیں کہ وہ اُن ساختی ناکامیوں کی قیمت ادا کر رہے ہیں جن کے ذمہ دار وہ خود نہیں۔

    اس کی ایک نمایاں مثال پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ہے۔ ایران۔امریکہ کشیدگی اور تیل کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹوں کو ان اضافوں کی وجہ قرار دیا گیا، لیکن بہت سے پاکستانی اسے پہلے سے دباؤ کا شکار عوام سے مزید آمدنی حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ چونکہ پٹرولیم مصنوعات براہِ راست ٹرانسپورٹ، خوراک اور صنعتی اخراجات پر اثر انداز ہوتی ہیں، اس لیے ہر اضافہ بالآخر پوری معیشت میں مہنگائی کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

    اسی دوران پاکستان ایک خاموش توانائی انقلاب سے بھی گزر رہا ہے۔ بڑھتے ہوئے بجلی نرخوں نے گھروں، کاروباروں اور صنعتوں کو شمسی توانائی کی طرف منتقل ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ جیسے جیسے زیادہ صارفین سولر سسٹم اور نیٹ میٹرنگ اپناتے جا رہے ہیں، قومی گرڈ سے بجلی کی کھپت کم ہو رہی ہے۔ اس رجحان نے آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کی بجلی کی طلب کو متاثر کیا ہے، جن کے منافع زیادہ تر طویل مدتی Capacity Payment معاہدوں پر منحصر ہیں۔

    ناقدین کے مطابق حکومت مہنگے بجلی نظام میں اصلاحات کرنے کے بجائے سولر توانائی کی حوصلہ شکنی کر رہی ہے۔ نیٹ میٹرنگ فوائد میں کمی اور سولر پینلز پر ٹیکس جیسے اقدامات کو بہت سے لوگ غیر مؤثر توانائی معاہدوں کے تحفظ کی کوشش سمجھتے ہیں، جبکہ عوام ناقابلِ برداشت بجلی اخراجات سے بچنے کے لیے قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

    تضاد واضح ہے۔ ایک طرف حکومت قابلِ تجدید توانائی اور پائیداری کی بات کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف ایسی پالیسیاں سامنے آتی ہیں جن کا مقصد ایک ایسا نظام برقرار رکھنا محسوس ہوتا ہے جہاں شہری اپنی اصل کھپت سے قطع نظر بڑھتے ہوئے بجلی نرخ اور Capacity Charges ادا کرتے رہیں۔

    آئی ایم ایف کی حمایت یافتہ اصلاحات کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ پاکستان کی معاشی صورتحال متبادل کی بہت کم گنجائش چھوڑتی ہے۔ بیرونی مالی معاونت اور مالیاتی نظم و ضبط کے بغیر ملک کو ڈیفالٹ اور شدید معاشی عدم استحکام کا سامنا ہو سکتا ہے۔ لیکن بنیادی سوال اب بھی باقی ہے: پاکستان معاشی اصلاحات کا بوجھ مسلسل عام شہریوں پر کیوں منتقل کرتا ہے، جبکہ ساختی ناکارہیاں بدستور محفوظ رہتی ہیں؟

    آج بہت سے پاکستانی محسوس کرتے ہیں کہ انہیں ہر طرف سے دبایا جا رہا ہے — ٹیکسوں، ایندھن کی قیمتوں، بجلی کے نرخوں، اور سولر توانائی جیسے سستے متبادل پر قدغنوں کے ذریعے۔

    جب تک حقیقی اور بامعنی ساختی اصلاحات نہیں کی جاتیں، یہ سوال برقرار رہے گا:

    کیا پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام پر چل رہا ہے، یا پھر ملک خود آہستہ آہستہ آئی ایم ایف کے زیرِ انتظام معیشت بنتا جا رہا ہے؟

    Related Posts

    ’’ایران سےپیار یا جنگ‘‘ 50/50 ، کل تک فیصلہ ہوجاءے گا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    نواب شاہ دوستوں کے درمیان معمولی تنازع جان لیوا ثابت، نوجوان جاں بحق

    مزدور کا انگوٹھا مشین میں آ کر کٹ گیا

    مقبول خبریں

    ’’ایران سےپیار یا جنگ‘‘ 50/50 ، کل تک فیصلہ ہوجاءے گا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    فیلڈ مارشل کے دورۂ ایران میں حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے: آئی ایس پی آر

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات

    امریکا میں گرین کارڈ کا حصول ناممکن بنا دیا گیا: نئی پالیسی متعارف، درخواست گزاروں کو آبائی وطن واپس جانا پڑے گا

    پاکستان کا آئی ایم ایف یا آئی ایم ایف کا پاکستان؟

    بلاگ

    حقائق کی موت، میمز کا راج: کیا پاکستانی اب صرف "وائرل” قوم بن چکےہیں ؟

    ایبولا کی تیز یلغار، عالمی ادار ہ صحت کا ہنگامی انتباہ 

    پاکستان کا آئی ایم ایف یا آئی ایم ایف کا پاکستان؟

    پنکی اور مخبری کے نام پر منشیات کی بندر بانٹ کا پولیس پر الزام,,سہیل چٹھہ نے مافیا کی کمر توڑ دی

    صوبہ بلوچستان،بڑھتی دہشت گردی  اور عوام میں بے چینی

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.