تحریر: ڈاکٹر دائودجہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے، جس پر عالمی ادار صحت (ڈبلیو ایچ او) نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ 22 مئی 2026 کو ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم گبریئسس نے خبردار کیا کہ ملک اب انفیکشن کے انتہائی بلند خطرے کی سطح پر پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق سرکاری اعداد و شمار اس وبا کی اصل شدت کی مکمل عکاسی نہیں کرتے کیونکہ وائرس بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔یہ وبا ڈی آر سی کے شمال مشرقی صوبے ایتوری میں پھیل رہی ہے، جو جنوبی سوڈان اور یوگنڈا کی سرحدوں کے قریب واقع ہے۔ عالمی ماہرینِ صحت کو سب سے زیادہ تشویش ایبولا وائرس کی بنڈی بوگیو قسم سے ہے۔ عام زائر (Zaire) قسم کے برعکس اس وائرس کے لیے نہ تو کوئی منظور شدہ ویکسین دستیاب ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص مثر علاج موجود ہے۔22 مئی کو جاری ہونے والی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق کانگو میں ایبولا کے 82 لیبارٹری سے تصدیق شدہ کیسز سامنے آ چکے ہیں، جبکہ تقریبا 750 مشتبہ مریض اور 177 مشتبہ اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ صرف ایک ہفتہ قبل 246 مشتبہ کیسز اور 80 اموات کی اطلاعات تھیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ وائرس کی منتقلی خطرناک رفتار سے بڑھ رہی ہے۔
وبا کا باقاعدہ اعلان 15 مئی کو اس وقت کیا گیا جب مونگبوالو اور روامپارا کے علاقوں میں خون بہنے والی پراسرار بیماری کے متعدد کیسز سامنے آئے۔ بعد ازاں مختلف نمونوں میں بنڈی بوگیو وائرس کی تصدیق ہوئی۔ 17 مئی کو عالمی ادار صحت نے اس صورتحال کو بین الاقوامی تشویش کی حامل صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال (PHEIC) قرار دے دیا، جس سے اس بحران کی سنگینی مزید واضح ہوگئی۔سب سے تشویشناک پیش رفت یہ ہے کہ وائرس اب دیہی علاقوں سے نکل کر شہری مراکز اور سرحد پار ممالک تک پہنچ چکا ہے۔ یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں کانگو سے آنے والے ایک متاثرہ شخص کی موت بھی رپورٹ ہوئی ہے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ خطے میں بڑے پیمانے پر نقل و حرکت وائرس کو مزید تیزی سے پھیلانے کا سبب بن سکتی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق مشرقی کانگو میں جاری بدامنی، مسلح تنازعات، کمزور طبی نظام اور بنیادی سہولیات کی کمی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایتوری کا علاقہ طویل عرصے سے تشدد، نقل مکانی اور محدود طبی سہولیات کا شکار ہے۔ اس وقت نو لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جس سے بیماری کے پھیلا کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو گیا ہے۔صحت حکام پر عوام کا عدم اعتماد بھی ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ روامپارا میں بعض مقامی افراد ایبولا سے متاثرہ افراد کی تدفین کے طریقہ کار پر اختلاف کے باعث اس قدر مشتعل ہوئے کہ انہوں نے علاجی مرکز کے لیے قائم خیموں اور طبی سامان کو نذرِ آتش کر دیا۔ چونکہ ایبولا جسمانی رطوبتوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، اس لیے سخت تدفینی پروٹوکول ضروری سمجھے جاتے ہیں، مگر یہ اقدامات اکثر مقامی رسوم و روایات سے متصادم ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں سماجی تنا اور مزاحمت جنم لیتی ہے۔طبی عملہ بھی شدید خطرات سے دوچار ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق متعدد ہیلتھ ورکرز میں انفیکشن کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ طبی مراکز کے اندر بھی وائرس منتقل ہو رہا ہے۔ حفاظتی سامان کی شدید کمی اور دیہی علاقوں میں غیر رسمی و کم وسائل والے کلینکس اس صورتحال کو مزید خطرناک بنا رہے ہیں۔عالمی سطح پر امدادی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ عالمی ادار صحت ہنگامی فنڈز جاری کر چکا ہے، جبکہ امریکی CDC، افریقی CDC اور دیگر بین الاقوامی ادارے نگرانی، لیبارٹری ٹیسٹنگ، کانٹیکٹ ٹریسنگ اور قرنطینہ کے اقدامات کے لیے عملہ اور سامان فراہم کر رہے ہیں۔ماہرین تجرباتی ویکسینز اور اینٹی وائرل ادویات کے استعمال پر بھی غور کر رہے ہیں۔ انہی میں ایک دوا اوبلڈیسوویر بھی شامل ہے، جو ابتدا میں کووڈ-19 کے علاج کے لیے تیار کی گئی تھی، تاہم ایبولا کے خلاف اس کی مثریت پر تحقیق ابھی جاری ہے۔
اگرچہ عالمی ادار صحت نے فی الحال عالمی خطرے کو کم قرار دیا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق وائرس شاید کئی ہفتوں بلکہ مہینوں سے خاموشی سے پھیل رہا تھا، جس کی بروقت نشاندہی نہ ہو سکی۔ اسی لیے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اصل متاثرین کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔جمہوریہ کانگو ایبولا سے ناواقف نہیں۔ یہ وائرس پہلی بار 1976 میں دریائے ایبولا کے قریب دریافت ہوا تھا، اور تب سے ملک میں کم از کم 17 بار ایبولا کی وبائیں پھوٹ چکی ہیں۔ تاہم موجودہ بحران کو بنڈی بوگیو قسم، کمزور علاقائی سلامتی، بڑے پیمانے پر نقل و حرکت اور صحت عامہ کے اقدامات پر بڑھتے ہوئے عدم اعتماد نے ایک منفرد اور پیچیدہ چیلنج بنا دیا ہے۔یہ صورتحال ایک اہم یاد دہانی بھی ہے کہ عالمی صحت کے بحران اب کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہے۔ آج کی باہم جڑی دنیا میں دور دراز جنگ زدہ علاقوں میں پیدا ہونے والی وبائیں بھی چند ہی دنوں میں بین الاقوامی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ کووڈ-19 وبا نے دنیا کو یہ سبق دیا تھا کہ تاخیر، کمزور نگرانی، غلط معلومات اور صحت کے نظام میں سرمایہ کاری کی کمی ایک قابلِ کنٹرول وبا کو انسانی المیے میں تبدیل کر سکتی ہے۔وسطی افریقہ میں ایبولا کے خلاف جنگ اب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس وبا پر قابو پانے کے لیے صرف طبی اقدامات کافی نہیں ہوں گے بلکہ عوامی اعتماد کی بحالی، علاقائی تعاون اور فوری عالمی امداد بھی ناگزیر ہوگی، تاکہ وائرس متاثرہ علاقوں سے باہر مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔

