Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی: مائیکروسافٹ نے تاریخ کی سب سے بڑی سیکیورٹی اپ ڈیٹ جاری کر دی،

      بھارت کی ہٹ دھرمی : عالمی عدالت کے فیصلے کے باوجودمتنازع منصوبے ساولکوٹ ڈیم کے ٹینڈر جاری

      چیٹ جی پی ٹی کے نئے امیجز فیچر نے تہلکہ مچا دیا

      آئی فون 18 پرو، پہلے فولڈ ایبل آئی فون اور نئی واچز کی رونمائی کب کہاں ہوگی؟

      اے آئی کی دوڑ، میٹا نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹ متعارف کرادیا، پے منٹس سمیت ہر دفتری کام کرے گا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ایبولا کی تیز یلغار، عالمی ادار ہ صحت کا ہنگامی انتباہ 

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp
    تحریر: ڈاکٹر دائودجہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
    جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے، جس پر عالمی ادار صحت (ڈبلیو ایچ او) نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ 22 مئی 2026 کو ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم گبریئسس نے خبردار کیا کہ ملک اب انفیکشن کے انتہائی بلند خطرے کی سطح پر پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق سرکاری اعداد و شمار اس وبا کی اصل شدت کی مکمل عکاسی نہیں کرتے کیونکہ وائرس بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔یہ وبا ڈی آر سی کے شمال مشرقی صوبے ایتوری میں پھیل رہی ہے، جو جنوبی سوڈان اور یوگنڈا کی سرحدوں کے قریب واقع ہے۔ عالمی ماہرینِ صحت کو سب سے زیادہ تشویش ایبولا وائرس کی بنڈی بوگیو قسم سے ہے۔ عام زائر (Zaire) قسم کے برعکس اس وائرس کے لیے نہ تو کوئی منظور شدہ ویکسین دستیاب ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص مثر علاج موجود ہے۔22 مئی کو جاری ہونے والی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق کانگو میں ایبولا کے 82 لیبارٹری سے تصدیق شدہ کیسز سامنے آ چکے ہیں، جبکہ تقریبا 750 مشتبہ مریض اور 177 مشتبہ اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ صرف ایک ہفتہ قبل 246 مشتبہ کیسز اور 80 اموات کی اطلاعات تھیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ وائرس کی منتقلی خطرناک رفتار سے بڑھ رہی ہے۔
    وبا کا باقاعدہ اعلان 15 مئی کو اس وقت کیا گیا جب مونگبوالو اور روامپارا کے علاقوں میں خون بہنے والی پراسرار بیماری کے متعدد کیسز سامنے آئے۔ بعد ازاں مختلف نمونوں میں بنڈی بوگیو وائرس کی تصدیق ہوئی۔ 17 مئی کو عالمی ادار صحت نے اس صورتحال کو بین الاقوامی تشویش کی حامل صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال (PHEIC) قرار دے دیا، جس سے اس بحران کی سنگینی مزید واضح ہوگئی۔سب سے تشویشناک پیش رفت یہ ہے کہ وائرس اب دیہی علاقوں سے نکل کر شہری مراکز اور سرحد پار ممالک تک پہنچ چکا ہے۔ یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں کانگو سے آنے والے ایک متاثرہ شخص کی موت بھی رپورٹ ہوئی ہے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ خطے میں بڑے پیمانے پر نقل و حرکت وائرس کو مزید تیزی سے پھیلانے کا سبب بن سکتی ہے۔
    ڈبلیو ایچ او کے مطابق مشرقی کانگو میں جاری بدامنی، مسلح تنازعات، کمزور طبی نظام اور بنیادی سہولیات کی کمی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایتوری کا علاقہ طویل عرصے سے تشدد، نقل مکانی اور محدود طبی سہولیات کا شکار ہے۔ اس وقت نو لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جس سے بیماری کے پھیلا کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو گیا ہے۔صحت حکام پر عوام کا عدم اعتماد بھی ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ روامپارا میں بعض مقامی افراد ایبولا سے متاثرہ افراد کی تدفین کے طریقہ کار پر اختلاف کے باعث اس قدر مشتعل ہوئے کہ انہوں نے علاجی مرکز کے لیے قائم خیموں اور طبی سامان کو نذرِ آتش کر دیا۔ چونکہ ایبولا جسمانی رطوبتوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، اس لیے سخت تدفینی پروٹوکول ضروری سمجھے جاتے ہیں، مگر یہ اقدامات اکثر مقامی رسوم و روایات سے متصادم ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں سماجی تنا اور مزاحمت جنم لیتی ہے۔طبی عملہ بھی شدید خطرات سے دوچار ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق متعدد ہیلتھ ورکرز میں انفیکشن کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ طبی مراکز کے اندر بھی وائرس منتقل ہو رہا ہے۔ حفاظتی سامان کی شدید کمی اور دیہی علاقوں میں غیر رسمی و کم وسائل والے کلینکس اس صورتحال کو مزید خطرناک بنا رہے ہیں۔عالمی سطح پر امدادی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ عالمی ادار صحت ہنگامی فنڈز جاری کر چکا ہے، جبکہ امریکی CDC، افریقی CDC اور دیگر بین الاقوامی ادارے نگرانی، لیبارٹری ٹیسٹنگ، کانٹیکٹ ٹریسنگ اور قرنطینہ کے اقدامات کے لیے عملہ اور سامان فراہم کر رہے ہیں۔ماہرین تجرباتی ویکسینز اور اینٹی وائرل ادویات کے استعمال پر بھی غور کر رہے ہیں۔ انہی میں ایک دوا اوبلڈیسوویر بھی شامل ہے، جو ابتدا میں کووڈ-19 کے علاج کے لیے تیار کی گئی تھی، تاہم ایبولا کے خلاف اس کی مثریت پر تحقیق ابھی جاری ہے۔
    اگرچہ عالمی ادار صحت نے فی الحال عالمی خطرے کو کم قرار دیا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق وائرس شاید کئی ہفتوں بلکہ مہینوں سے خاموشی سے پھیل رہا تھا، جس کی بروقت نشاندہی نہ ہو سکی۔ اسی لیے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اصل متاثرین کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔جمہوریہ کانگو ایبولا سے ناواقف نہیں۔ یہ وائرس پہلی بار 1976 میں دریائے ایبولا کے قریب دریافت ہوا تھا، اور تب سے ملک میں کم از کم 17 بار ایبولا کی وبائیں پھوٹ چکی ہیں۔ تاہم موجودہ بحران کو بنڈی بوگیو قسم، کمزور علاقائی سلامتی، بڑے پیمانے پر نقل و حرکت اور صحت عامہ کے اقدامات پر بڑھتے ہوئے عدم اعتماد نے ایک منفرد اور پیچیدہ چیلنج بنا دیا ہے۔یہ صورتحال ایک اہم یاد دہانی بھی ہے کہ عالمی صحت کے بحران اب کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہے۔ آج کی باہم جڑی دنیا میں دور دراز جنگ زدہ علاقوں میں پیدا ہونے والی وبائیں بھی چند ہی دنوں میں بین الاقوامی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ کووڈ-19 وبا نے دنیا کو یہ سبق دیا تھا کہ تاخیر، کمزور نگرانی، غلط معلومات اور صحت کے نظام میں سرمایہ کاری کی کمی ایک قابلِ کنٹرول وبا کو انسانی المیے میں تبدیل کر سکتی ہے۔وسطی افریقہ میں ایبولا کے خلاف جنگ اب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس وبا پر قابو پانے کے لیے صرف طبی اقدامات کافی نہیں ہوں گے بلکہ عوامی اعتماد کی بحالی، علاقائی تعاون اور فوری عالمی امداد بھی ناگزیر ہوگی، تاکہ وائرس متاثرہ علاقوں سے باہر مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔

    Related Posts

    ملک غلام حسن سلہال — خدمت، شرافت اور عوامی وابستگی کی روشن مثال

    تین سالہ معطلی یا انصاف کا انتظار؟ — جب احتساب، خود ایک سزا بن جائے.

    ”ہنی ٹریپ کرتی انٹی کرپشن کا احتساب کب ہوگا ؟ “ ملک محمد سلمان کا کالم

    مقبول خبریں

    ٹیم انڈیا کے چار زخمی کھلاڑیوں میں سے تین فٹ، ایک کھلاڑی اسکواڈ سے باہر

    کرینہ کپور کا بالی ووڈ پر بڑا بیان، اینمل کی مثال دے کر فلم انڈسٹری کو کیا کہا

    غزہ ، اسرائیلی فضائی حملہ، بچوں سمیت 4 افراد ہلاک

    بہت گرم چائے اور کافی سے غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، آکسفورڈ یونیورسٹی کی اہم تحقیق

    قبل از گرفتاری ضمانت   خارج گیپکو سب ڈویژن ہیڈ مرالہ کے ایگزیکٹو ایکسیئن گرفتار

    بلاگ

    ملک غلام حسن سلہال — خدمت، شرافت اور عوامی وابستگی کی روشن مثال

    تین سالہ معطلی یا انصاف کا انتظار؟ — جب احتساب، خود ایک سزا بن جائے.

    ”ہنی ٹریپ کرتی انٹی کرپشن کا احتساب کب ہوگا ؟ “ ملک محمد سلمان کا کالم

    لاہور پریس کلب میں عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو — خواتین صحافیوں کی یادگار محفلِ میلاد

    ناہید طالب: فن، صلاحیت اور خدمت کا روشن استعارہ

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.