Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      اے ٹی ایم فراڈ : اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو بڑا حکم جاری کردیا

      ”کاکروچ کبھی مرتے نہیں“ بھارت میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کا ایکس اکاؤنٹ بلاک، بانی کا نیا اکاؤنٹ "کاکروچ از بیک” متحرک

      ایران جنگ میں امریکا کو بے تحاشہ نقصان، لڑاکا طیاروں سمیت 42 طیارے اور MQ-9 ریپر ڈرون کھو دیے، کانگریشنل ریسرچ سروس رپورٹ

      نیسلے کے لیے نئی مشکل: شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ میں زہریلے مادے کا انکشاف

      کراچی میں 82 منزلہ 941 فٹ بلند ” برج قائد“ تعمیر کرنیکا فیصلہ

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

      خارگ جزیرے پر ممکنہ امریکی حملہ ، لیگو ویڈیو جاری

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    پنکی اور مخبری کے نام پر منشیات کی بندر بانٹ کا پولیس پر الزام,,سہیل چٹھہ نے مافیا کی کمر توڑ دی

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر: اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    پنجاب میں منشیات کے خلاف جنگ صرف سڑکوں، محلوں اور بازاروں تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک ایسے پیچیدہ نظام کے خلاف جدوجہد ہے جس میں برسوں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بعض عناصر، مخبر اور منشیات فروش ایک غیر رسمی زنجیر میں جڑے رہے ہیں۔ بظاہر منشیات ضبط کی جاتی رہیں، مقدمات درج ہوتے رہے، پریس ریلیز جاری ہوتی رہیں اور کارکردگی کے گراف بلند دکھائی دیتے رہے، لیکن پسِ پردہ ایک ایسا کھیل جاری تھا جس میں قانون کو استعمال بھی کیا جاتا تھا اور بعض اوقات اس کا مذاق بھی اڑایا جاتا تھا۔
    ذرائع کے مطابق بعض علاقوں میں یہ ایک پرانا طریقۂ کار بن چکا تھا کہ مخصوص مخبر منشیات فروشوں کی اطلاع دیتے، چھاپے مارے جاتے اور بڑی مقدار میں منشیات برآمد ہونے کے دعوے سامنے آتے۔ تاہم ضبط کی گئی منشیات آخر جاتی کہاں تھیں؟ الزامات یہ ہیں کہ ان میں سے کچھ مقدار دوبارہ بازار میں پہنچ جاتی اور وہی زہر نئی نسل کو فروخت کیا جاتا۔ یوں ایک طرف کامیاب کارروائیوں کی تشہیر کی جاتی رہی، جبکہ دوسری طرف اسی کاروبار سے مالی فوائد بھی حاصل کیے جاتے رہے۔
    یہ مسئلہ صرف چند نچلے درجے کے کرداروں تک محدود نہیں رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ بعض اہم افسران کی ساکھ بھی اس غیر رسمی نیٹ ورک سے جوڑی جانے لگی۔ منشیات فروشوں اور مخبروں کے ساتھ تعلقات اس قدر مضبوط ہونے کے الزامات سامنے آئے کہ بعض افراد مبینہ طور پر کاروباری شراکت دار بن گئے۔ نتیجتاً کچھ گرفتار افراد کو غیر معمولی تحفظ حاصل رہا اور اگر کبھی کوئی معاملہ سنگین صورت اختیار کرتا تو اثر و رسوخ کے ذریعے اسے دبانے کی کوشش کی جاتی۔ انمول عرف “پنکی” کا معاملہ بھی اسی تناظر میں نمایاں ہوا۔ یہ صرف ایک فرد یا ایک نیٹ ورک کا معاملہ نہیں رہا بلکہ اس نے پورے نظام پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا۔ اس کیس نے مخبروں، منشیات فروشوں اور بعض سرکاری اہلکاروں کے درمیان تعلقات کی نوعیت پر سنگین سوالات اٹھائے۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ محض بدعنوانی کا معاملہ نہیں بلکہ نوجوان نسل کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
    تاہم صورتحال میں تبدیلی اس وقت آنا شروع ہوئی جب ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ نے انسدادِ منشیات کارروائیوں کے طریقۂ کار میں بنیادی اصلاحات متعارف کروائیں۔ رپورٹس کے مطابق واضح ہدایات جاری کی گئیں کہ مخبروں کو منشیات کے بجائے صرف معلومات کی بنیاد پر قانونی انعام دیا جائے۔ ساتھ ہی یہ پیغام بھی دیا گیا کہ اگر کوئی اہلکار یا مخبر انعام، کمیشن یا کسی بھی شکل میں منشیات کے استعمال یا لین دین میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف نہ صرف محکمانہ کارروائی ہوگی بلکہ فوجداری مقدمات بھی درج کیے جائیں گے۔
    اس پالیسی کا سب سے اہم اثر یہ سامنے آیا کہ وہ عناصر جو مخبری کی آڑ میں غیر قانونی کاروبار چلا رہے تھے، اچانک غیر فعال ہونے لگے۔ کیونکہ جب “حصہ” منشیات کی شکل میں دستیاب نہ رہا تو اس پورے غیر قانونی نیٹ ورک کی معاشی بنیاد کمزور پڑنے لگی۔ یہی وجہ ہے کہ اب ایسے کئی چہرے بھی سامنے آ رہے ہیں جنہوں نے برسوں خود کو قانون کا محافظ ظاہر کیا، مگر اب ان پر مختلف مفادات سے وابستگی کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ منشیات کے خلاف جنگ صرف چھاپوں اور گرفتاریوں سے نہیں جیتی جا سکتی۔ جب تک نظام کے اندر موجود سیاہ بھیڑوں کا مؤثر احتساب نہیں ہوگا، ہر کارروائی وقتی ثابت ہوگی۔ پنجاب کو ایسے سخت اور غیر روایتی اقدامات کی ضرورت ہے جو صرف منشیات فروشوں ہی نہیں بلکہ ان کے سرپرستوں، سہولت کاروں اور مبینہ محافظوں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لائیں۔
    اصل کامیابی ضبط شدہ منشیات کی مقدار میں نہیں، بلکہ ان راستوں کو بند کرنے میں ہے جن کے ذریعے یہ زہر دوبارہ بازار تک پہنچتا ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں انسدادِ منشیات کی جنگ محض ایک آپریشنل کارروائی نہیں رہتی بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی قومی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ پاکستان کی نوجوان نسل کو نشے کے عفریت سے بچانے کی اس جنگ میں کسی ذاتی مفاد، تعلق یا دباؤ کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔

    Related Posts

    ایران کے چیف مذاکرات کار قالیباف،وزیرخارجہ کی دوحہ آمد، ایران سے معاہدہ بامعنی ہوگا یا نہیں ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

    سجاد علی سومرو کی والدہ کے انتقال پر نازش فاطمہ بھٹی کی  تعزیت 

    ہنگورجا مائنر،مختلف مقامات پر شگاف، بند نہ کرنے پر احتجاج

    مقبول خبریں

    ایران کے چیف مذاکرات کار قالیباف،وزیرخارجہ کی دوحہ آمد، ایران سے معاہدہ بامعنی ہوگا یا نہیں ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

    قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت اور منڈیوں میں بڑھتے ہوئے فراڈ، عوامی آگاہی کے لیے ایک خصوصی کالم

    ’’لہور لہور اے‘‘: لیک سٹی میں واقع کے ایف سی (KFC) برانچ نے ‘دنیا کے بہترین ڈیزائن’ کا ایوارڈ جیت لیا

    ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے اپارٹمنٹ مالکان کیلئے بڑاریلیف ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے آرڈر دیدیا

    زمین کے تنازع پرخاتون سمیت 5افرادقتل

    بلاگ

    قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت اور منڈیوں میں بڑھتے ہوئے فراڈ، عوامی آگاہی کے لیے ایک خصوصی کالم

    حقائق کی موت، میمز کا راج: کیا پاکستانی اب صرف "وائرل” قوم بن چکےہیں ؟

    ایبولا کی تیز یلغار، عالمی ادار ہ صحت کا ہنگامی انتباہ 

    پاکستان کا آئی ایم ایف یا آئی ایم ایف کا پاکستان؟

    پنکی اور مخبری کے نام پر منشیات کی بندر بانٹ کا پولیس پر الزام,,سہیل چٹھہ نے مافیا کی کمر توڑ دی

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.