تحریر: اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

ذرائع کے مطابق بعض علاقوں میں یہ ایک پرانا طریقۂ کار بن چکا تھا کہ مخصوص مخبر منشیات فروشوں کی اطلاع دیتے، چھاپے مارے جاتے اور بڑی مقدار میں منشیات برآمد ہونے کے دعوے سامنے آتے۔ تاہم ضبط کی گئی منشیات آخر جاتی کہاں تھیں؟ الزامات یہ ہیں کہ ان میں سے کچھ مقدار دوبارہ بازار میں پہنچ جاتی اور وہی زہر نئی نسل کو فروخت کیا جاتا۔ یوں ایک طرف کامیاب کارروائیوں کی تشہیر کی جاتی رہی، جبکہ دوسری طرف اسی کاروبار سے مالی فوائد بھی حاصل کیے جاتے رہے۔
یہ مسئلہ صرف چند نچلے درجے کے کرداروں تک محدود نہیں رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ بعض اہم افسران کی ساکھ بھی اس غیر رسمی نیٹ ورک سے جوڑی جانے لگی۔ منشیات فروشوں اور مخبروں کے ساتھ تعلقات اس قدر مضبوط ہونے کے الزامات سامنے آئے کہ بعض افراد مبینہ طور پر کاروباری شراکت دار بن گئے۔ نتیجتاً کچھ گرفتار افراد کو غیر معمولی تحفظ حاصل رہا اور اگر کبھی کوئی معاملہ سنگین صورت اختیار کرتا تو اثر و رسوخ کے ذریعے اسے دبانے کی کوشش کی جاتی۔ انمول عرف “پنکی” کا معاملہ بھی اسی تناظر میں نمایاں ہوا۔ یہ صرف ایک فرد یا ایک نیٹ ورک کا معاملہ نہیں رہا بلکہ اس نے پورے نظام پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا۔ اس کیس نے مخبروں، منشیات فروشوں اور بعض سرکاری اہلکاروں کے درمیان تعلقات کی نوعیت پر سنگین سوالات اٹھائے۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ محض بدعنوانی کا معاملہ نہیں بلکہ نوجوان نسل کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
تاہم صورتحال میں تبدیلی اس وقت آنا شروع ہوئی جب ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ نے انسدادِ منشیات کارروائیوں کے طریقۂ کار میں بنیادی اصلاحات متعارف کروائیں۔ رپورٹس کے مطابق واضح ہدایات جاری کی گئیں کہ مخبروں کو منشیات کے بجائے صرف معلومات کی بنیاد پر قانونی انعام دیا جائے۔ ساتھ ہی یہ پیغام بھی دیا گیا کہ اگر کوئی اہلکار یا مخبر انعام، کمیشن یا کسی بھی شکل میں منشیات کے استعمال یا لین دین میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف نہ صرف محکمانہ کارروائی ہوگی بلکہ فوجداری مقدمات بھی درج کیے جائیں گے۔
اس پالیسی کا سب سے اہم اثر یہ سامنے آیا کہ وہ عناصر جو مخبری کی آڑ میں غیر قانونی کاروبار چلا رہے تھے، اچانک غیر فعال ہونے لگے۔ کیونکہ جب “حصہ” منشیات کی شکل میں دستیاب نہ رہا تو اس پورے غیر قانونی نیٹ ورک کی معاشی بنیاد کمزور پڑنے لگی۔ یہی وجہ ہے کہ اب ایسے کئی چہرے بھی سامنے آ رہے ہیں جنہوں نے برسوں خود کو قانون کا محافظ ظاہر کیا، مگر اب ان پر مختلف مفادات سے وابستگی کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ منشیات کے خلاف جنگ صرف چھاپوں اور گرفتاریوں سے نہیں جیتی جا سکتی۔ جب تک نظام کے اندر موجود سیاہ بھیڑوں کا مؤثر احتساب نہیں ہوگا، ہر کارروائی وقتی ثابت ہوگی۔ پنجاب کو ایسے سخت اور غیر روایتی اقدامات کی ضرورت ہے جو صرف منشیات فروشوں ہی نہیں بلکہ ان کے سرپرستوں، سہولت کاروں اور مبینہ محافظوں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لائیں۔
اصل کامیابی ضبط شدہ منشیات کی مقدار میں نہیں، بلکہ ان راستوں کو بند کرنے میں ہے جن کے ذریعے یہ زہر دوبارہ بازار تک پہنچتا ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں انسدادِ منشیات کی جنگ محض ایک آپریشنل کارروائی نہیں رہتی بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی قومی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ پاکستان کی نوجوان نسل کو نشے کے عفریت سے بچانے کی اس جنگ میں کسی ذاتی مفاد، تعلق یا دباؤ کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔

